..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

مملکت پاکستان لینڈ مافیا کے قبضے میں!

ََََََ ۔۔۔۔۔منصور مہدی ۔۔۔۔۔

چند ماہ ہی گزرے ہیں کہ جب پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ وہ گورنر ہوتے ہوئے عوام کی بھلائی کے لئے کوئی کام نہیں کرسکے کیونکہ ملک میں لینڈ مافیا اور قبضہ گروپ گورنر سے زیادہ طاقتور ہیں۔

ان کی اس بات کو کسی نے نہیں جھٹلایا کیونکہ یہ سچ ہے کہ نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان بھر میں لینڈ مافیا اور قبضہ گروپ حکومتوں سے زیادہ طاقتور رہے ہیں، 1994/95کی بات ہے کہ پنجاب کے ہی ایک اور گورنر چوہدری الطاف حسین نے بھی کچھ اسی قسم کے الفاظ کہے تھے جب معروف قانون دان ڈاکٹر خالد رانجھا نے لاہور سے 82کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ایک چھوٹے شہر میں سرکاری ہسپتال پر اس وقت کے نامی گرامی افراد کے قبضے کے بارے میں بتایا جوہسپتال کو گرا کر شاپنگ پلازا بنانا چاہتے تھے، وہ نامی گرامی افراد حکومت میں اثر و رسوخ رکھتے تھے ، تاہم حکومتی اداروں کی خاموشی کے بعد وہاں کے شہریوں نے خود سے راست اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ایک طویل اور حکومتی زیادتیوں سے بھرپور جدوجہد کے بعد ہسپتال پر قبضہ نہ ہونے دیا۔

لینڈ مافیا اور قبضہ گروپ کی پاکستان میں تاریخ اتنی ہی پرانی ہے کہ جتنی تقسیم ہندوستان کے نتیجے میںہونی والی ہجرت کے بعد پاکستان میں سب سے بڑی جعلسازی اور فراڈ کا آغاز ہوا، 1958میں حکومت نے ہندوستان سے آئے مہاجرین کی قربانیوں کے ازالے کیلئے نیک نیتی سے شروع کی جانے والی سکیم کے تحت بوگس اور جعلی الاٹمنٹوں کے ذریعے سینکڑوں بلکہ ہزاروں با اثر افراد نے ہزاروں مربع زمینوں پر قبضے جما لیے،یہی وجہ ہے کہ تقریباً60برس گزرنے کے بعد آج بھی چیف سیٹلمنٹ کمشنر پنجاب اوردیگر عدالتوں میں ڈبل الاٹمنٹ ، بوگس الاٹمنٹ اور جعلی الاٹمنٹ کےہزاروں مقدمات زیر التوا ہیں ، 1947 کے بعد ایک کروڑ45 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں ، ہندووں اور سکھوں نے گھر بار چھوڑکر پاکستان اوربھارت کی طرف ہجرت کی تھے، جن میں 82لاکھ 26ہزار مسلمانوں نے بھار ت سے پاکستان کی طرف جبکہ 72لاکھ 49ہزار ہندوواورسکھ پاکستان سے بھارت گئے، پاکستان میں آنے والوں میں لگ بھگ 55لاکھ نے پنجاب ، 15لاکھ نے سندھ میں سکونت اختیار کی، پنجاب میں سکونت اختیار کرنے والے مہاجرین کی اکثریت کا تعلق بھارت کے شہروں ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر ، اور راجستھان سے تھا ،جبکہ سندھ میں رھائش پذیر ہونے والے مہاجروں میں زیادہ کا تعلق بھارت کے شہروں اترپردیش، بہار، مدھیاپردیش، گجرات اور راجستھان سے تھا۔اس طرح ، تاریخ کی چند بڑی ہجرتوں میں سے ایک ہجرت پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی جعلسازی ، دھوکہ دہی اور مقدمہ بازی کا باعث بن گئی ۔

وہ دن اور آج کا دن پورا ملک لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، فرنٹکس پرائیویٹ بنام شاہد نبی ملک کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کی زمینوں پر لینڈاور سڑکوں پر بلڈنگ مافیا کا قبضہ ہے۔ گلستان جوہر بلاک13 کراچی میں واقع گرلز ڈگری کالج کی زمین پر لینڈ مافیا اور ٹھیکیداروں نے گھر تعمیر کر کے فروخت کر دیےہیں جبکہ باقی خالی زمین پر بھی پلاننگ کی جا رہی ہے، کالج کی پرنسپل پروفیسر نیلو فر شاہ کا کہنا ہے کہ کالج کی زمین پر قبضے کی اطلاع محکمہ تعلیم اور کنٹونمنٹ کو کئی بار دی گئی لیکن انہوں نے دلچسپی نہیں لی، پہلے ایک گھر بنا اب چار گھر بن کر فروخت ہو چکے ہیں ۔
سکول، کالج، پارک، باغات، نالے اور دیگر سرکاری وغیر سرکاری جگہ ایسی نہیں کہ جو قبضہ اور لینڈ مافیا سے بچی ہو۔

ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کی 18 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری اور نجی زمین پر لینڈ مافیا کا قبضہ ہے ، کسی نے پارک پر قبضہ کیا ہوا ہے تو کسی نے کھیل کے میدان پر تعمیراتی منصوبہ شروع کردیا ، کسی نے ریلوے کی زمین ہتھیالی تو کسی نے نالوں پر عمارتیں تعمیر کر دیں۔ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عاطف احمد جو آجکل رینجرز کی حراست میں ہے، نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو لاء کالج کی اراضی پر سرفراز مرچنٹ گروپ نے غیر قانونی قبضہ کیا، عاطف نے بتایا کہ قبضے کے پلاٹوں کو فروخت کرکے رقم کا بڑا حصہ دبئی اور لندن منتقلبھیجا جاتا تھا، رقم کی منتقلی کا کام اس کا بھائی اسرار کرتا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہلینڈ مافیا نے کراچی میں زمین ہتھیانے کے لیے سمندر بھی بیچ ڈالا، مگر ریکارڈ میں اسی سال پرانی غلط تاریخ ڈالنے کی غلطی سے پکڑے گئے، ڈیفنس سے ملحقہ530ایکڑ سمندری اراضی پرچائنہ کٹنگ کردی گئی۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے یہ کہانی جب نیب کو سنائی گئی تو نیب سندھ نے تحقیقات کیں تو ایسے انکشافات ہوئے کہ آنکھیں کھلی رہ گئیں، اس اراضی کی مالیت اس وقت دو سے تین ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ نیب کی تحقیقات کے مطابق 2004 میں صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے غیرقانونی طور پراس اراضی کی الاٹمنٹ کی، اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے کاغذات منسوخ کرکے امتیازشیخ کوبرطرف کردیا، 2010 میں زمین کے مبینہ ورثا پھر عدالت چلے گئے۔

عدالت نے محکمہ ریونیو سندھ کو چھان بین کا حکم دیا، ایڈیشنل ای ڈی او ریونیو مصطفیٰ جمال قاضی نے ساری انٹریاں درست قرار دے دیں، نیب کی ٹاپ سیکرٹ رپورٹ میں مصطفیٰ جمال قاضی کو اس سارے گھپلے کاذمہ دار قرار دیا گیا۔ لینڈ یوٹیلائزیشن محکمہ کے شاہ زرشمعون کوبھی اختیارات کے ناجائز استعمال کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جب کہ دونوں افسران اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
کراچی میں تحقیقاتی اداروں نے لینڈ مافیا کے مرکزی ملزم منظور قادرعرف کاکا کی پاکستان میں 7 ارب کی جائیداد کا سراغ لگا یا ہے جو کہ ان کے رشتے داروں اور فرنٹ مینوں کے نام پر ہے، اس کا ایک بھائی سندھ پبلک سروس کمیشن میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے، منظور قادر کی دبئی سمیتکئی ممالک میں جائیدادوں سے متعلق تحقیقات کی جاری ہیں، تحقیقاتی اداروں کے مطابق لینڈ مافیا کے بادشاہ منظور قادر عرف کاکا کا اقتدار 2008میں پیپلزپارٹی کےحکومت میں آتے ہی قائم ہوگیا تھا، اس دوران اس نے زمینوں کی غیر قانونی خریدو فروخت کے ذریعے اربوں روپے کی جائیداد بنا لی، منظور قادر کے بلاول ہاﺅس میں بہت ہی قریبی تعلقات ہیں، رینجرز نے کے بی سی اے کے دفترسے منظور قادر کے دستخط سے جاری تمام فائلیں بھی حاصل کر لی ہیں۔

اب نیب نے ملک بھر میں لینڈ مافیا کے سرغنہ افراد کیخلاف کارروائی کاا علان کیا ہے، نجی و سرکاری املاک پر جعلی دستاویزات اور غیر قانونی طریقوں کے ساتھ قابض ہونے والوں کیخلاف چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی ہدایت پر نیب نے کارروائیاں شروع کر دی ہیں، اس سلسلے میں نیب لاہور نے لاہور کی لینڈ مافیاکیخلاف بھی کریک ڈاو¿ن شروع کر دیا ہے۔ نیب کے طلب کرنے پرایل ڈی اے نے سات بڑی غیرقانونی ہاﺅسنگ اسکیموں کاریکارڈ حوالے کر دیا، لاہورسمیت شیخوپورہ ،قصور،ننکانہ کی ہاﺅسنگ اسکیموں کی فہرست بھی تیار کرلی گئیں ہیں، نیب حکام کے طلب کرنے پرجن ہاﺅسنگ سکیموں کا ریکارڈ حوالے کیا گیا ان سکیموں کے مالکان بااثر سیاسی شخصیات ہیں۔ جن ہا ﺅ سنگ سکیموں کا ریکارڈ نیب نے تحقیقات کے لیے حاصل کیا ہے ان میں گلشن لاہور،پارک و یو، گرین سٹی، پیرا گون،لیک سٹی،ا یڈ ن ہاﺅسنگ سکیم، خیابان امین شامل ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے تیس اضلاع میں ایک لاکھ سولہ ہزار تین سوپچاس ایکڑ سے زائد سرکاری زمین قبضہ گروپوں کے زیر استعمال ہے،اعدادو شمار کے مطابق لاہوردس ہزار دو سو بائیس ایکڑ ،قصور ایک ہزار بائیس ایکڑ ،شیخوپورہ ایک ہزار ایک سو چھیاسی ایکڑ ،ننکانہ صاحب دو ہزار سات سو تین ایکڑ ،فیصل آباد نو ہزار ایکڑ ،گیارہ ایکڑ جھنگ ،تین ہزار نو سو انہتر ایکڑ چینوٹ چودہ ایکڑ ،ساہیوال 17 ہزار 647 ایکڑ ،اوکاڑہ گیارہ ہزار آٹھ سو دس ایکڑ ،ملتان گیارہ ہزار ایکڑ ،وہاڑی تین سو پچاس ایکڑ خانیوال سات ہزار آٹھ سو ترانوے ایکڑ ، لودھراںپانچ سو بیس ایکڑ، بہاولنگر ایک سو سات ایکڑ،بہاولپور ڈویڑن دو ہزار دو سو چونتیس ایکڑ ،رحیم یار خان سات سو اٹھارہ ایکڑ ،سرگودھا ڈویڑن آٹھ ہزار نو سو نواسی ایکڑ ،خوشاب آٹھ ہزار تین سو تراسٹھ ایکڑ ،میانوالی پندرہ ایکڑ ،بھکر ایک سو پچیس ایکڑ ،ڈی جی خان تریپن ہزار اٹھانوے ایکڑ ،راجن پور تیئس ہزار دو سو پینتالیس ایکڑ ،مظفر گڑھ تیرہ ہزار دو سو پچپن ایکڑ ،لیہ بارہ ہزار پچیس ایکڑ ،گوجرنوالہ ڈویڑن ایک ہزار دو سو چورہ ایکڑ ،سیالکوٹ سات سو تین ایکڑ ،ناروال دوسو اٹھاسی ایکڑ ،منڈی بہاوالدین دو سو تئیس ایکڑ ،راولپنڈی ڈویڑن دو ہزار اٹھ سو پچپن ایکڑ ،چکوال نو سو پچہتر ایکڑ ،اٹک نو سو تیرہ ایکڑ ،سرکاری زمینوں پر قبضہ موجود ہے۔

کھربوں روپے کی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والے بعض بڑی بڑی اہم شخصیات شامل ہیں جن میں ایم این اے اور ایم پی اے اور ان کے عزیز و اقارب کے نام کئی بار سامنے آچکے ہیں۔لیکن حکومت کی پر اسرار خاموشی کے پس پردہ محرکات کا بھی سب کو علم ہے۔ کہتے ہیں کہ جیسے کراچی میںٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والی کالعدم تنظیموں نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلئے ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، اور دیگر سیاسی، مذہبی اور لسانی جماعتوں میں شمولیت حاصل کر رکھی ہے اسی طرح پنجاب میں ن لیگ لینڈ مافیا ءکے مکمل نرغے میں ہے۔

دسمبر2010میں حکومت پنجاب نے محکمہ مال کے سینئرعہدیداروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے لاہور اور گردونواح میں نئی ہاوسنگ سکیموں کی رجسٹریشن پر پابندی اور غیر قانونی ہاوسنگ سکیموںکے خلاف کارروائی کی تجاویز پیش کی تھیں۔ کمیٹی نے اپنی جوسفارشات وزیراعلیٰ کو بھجوائیں ان کے مطابق لاہور اور اس کے گردونواح میں213 قانونی اور140 غیر قانونی ہاوسنگ سکیمیں موجود ہیں۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں صوبہ پنجاب کے دیگر شہروں کے بارے میں بھی حکومت کو مطلع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملتان میں30 قانونی اور19 غیر قانونی ہاوسنگ سکیمیں جبکہ فیصل آباد میں 88 قانونی،72 غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیز موجود ہیں جہاں لینڈ مافیا سادہ لوح افراد کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ کمیٹی نے حکومت پنجاب کو دی جانیوالی سفارشات میں مزید کہا تھا کہ لاہور میں موجود قانونی ہاوسنگ سکیموں میں7 لاکھ کے قریب پلاٹس موجود ہیں جو شہریوں کی رہائشی ضروریات کے مطابق کافی ہیں۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ صرف انہی ہاوسنگ سکیموں کواین او سی جاری کیے جائیں گے جو تمام تر قوانین کی پاسداری کرتی ہیں، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسرز ریونیو کے دفتر میں00 50سے زیادہ ایسے متاثرین کی درخواستیںموجود ہیں جن کی اراضی پرقبضہ مافیا نے قبضہ جما رکھا ہیں یا پھر ہاو¿سنگ سکیموں کے مالکان نے ان سے لاکھوں روپے رقم بٹور کر انہیں پلاٹس کی الاٹ منٹ نہیں کی۔ نہ ہی ان سفارشات پر کوئی عملدرآمد ہوا اور نہ ہی آج تک ان متاثرین کی داد رسی ہو سکی کیونکہ یہ قبضہ گروپ حکومت میں اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔

لینڈ مافیا اور قبضہ گروپوں کے حوالے سے یہ بات طے ہے کہ حکومت خصوصاً پولیس کی آشیرباد کے بغیر یہ کاروبار ممکن نہیں ہے، پنجاب میں قبضہ مافیا کی کہانی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس میں پولیس انسپکٹر نوید سعید کا ذکر نہ ہو، پولیس مقابلوں کا ماہر اور بیسیوں افراد کو ہلاک کرنے والا کروڑ پتی برطانوی شہریت کا حامل انسپکٹر نوید سعید چند مرلے زمین کے جھگڑے میں اپنے ساتھیوں سمیت 2005میںموت کے گھاٹ اتر گیاتھا۔لینڈ مافیا اور قبضہ گروپ کا ایک اہم رکن ہونے کے علاوہ اس انسپکٹر کی شہرت میں اس وقت زیادہ اضافہ ہو ا جب اس نے محلاتی سازشوں کا کردار بن کر پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سلیمان تاثیر کو پنجاب اسمبلی سے گرفتار کیا اور مزاحمت پر تھپڑ مارے اور سابقصدر آصف علی زرداری سے جسٹس نظام قتل کیس میں تفتیش کرنے کراچی پہنچا اور دوران تفتیش آصف زرداری کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے نہ صرف گردن پر زخم آئے بلکہ زبان کٹ گئی اور مار مار کر مبینہ طور پر بے ہوش کر دیا، 12اکتوبر1999کو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو کراچی میں گرفتارکرنے کیلئے لاہور سے جانے والے خصوصی سکواڈ کی قیادت بھی اسی انسپکٹر نے کی تھی۔ مشہور زمانہ دہشت کی علامت ملنگی ، ناجی بٹ ،اغوا اور کرائے کے قاتل ٹاپ ٹین میں شامل ہمایوں گجر،میاں داﺅد ،ثنا ، حنیف عرف حنیفا ، شفیق بابا اور اجرتی قاتل بھولا سنیارہ کو بھی نوید سعید نے پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا تھا۔

ایسے واقعات اور اشرافیہ میں تعلق رکھنے کی وجہ سے جب اسے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیرو کی حیثیت ملیتو اس نے لاہور میںباقاعدہ تھانیداری کرنی شروع کر دی اور سرکاری ملازمت کے ساتھ پراپرٹی کا کاروبار بھی شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کروڑپتی بن گیا، اس کی پولیس میں شہرت امیر ترین پولیس آفیسر کے طور پر تھی۔ پراپرٹی کے کام میں فیصل ٹاﺅن کے رہائشی وحید بٹ کے ساتھاس کی شراکت داری تھی، جبکہ دیگر شراکت کاروں میں رائے ونڈ روڈکے شاہ بابا عرف شانو اور اسکے بیٹے شامل تھے، کہ اسی دوران وحید بٹ کا ندیم اور بابر وغیرہ سے جھگڑا ہو گیا اور شراکت داری ختم ہو گئی مگر ایک پلاٹ پر تنازعہ پیدا ہو گیا۔ یہ پلاٹ رائے ونڈ روڈ پر واقع تھا جسکا رقبہ 10کنال تھا جو بابر ، ندیم اور وحید بٹ نے تقریباً 250ملین روپے میں خریدا تھا جبکہ ان لوگوں کی شراکت داری ختم ہو گئی تو اس پلاٹ میں سے 8کنال بابر اور ندیم کے پاس آگئے جبکہ 2کنال وحید بٹ کے پاس آئے جس میں سے بعد میں وحید بٹ نے ایک کنال نوید سعید کو دے دیا۔ مگر بعد ازاں اس پلاٹ پر بابر وغیرہ نے قبضہ کر لیا۔جب اس قبضے کی اطلاع وحید بٹ کو ملی تو وہ نوید سعید کے پاس آیا اسے ساری بات بتلائی جس پر نوید سعید وحید بٹ ،مقصود احمدعرف پٹھانے خان ، ناصر خان ، مناں کھادی ، لڈو اور ظہیر بٹ کے ہمراہ وحید بٹ کی گاڑی میں سوار اپنے گن مینوں احمد علی ، نصیر ، ولایت وغیرہ کے ہمراہ رائے ونڈ روڈ پر متنازعہ پلاٹ پر پہنچے، تو اس مخالفوں نے ان پر فائرنگ کر دی اور جان سے مار دیا۔

سرکاری اراضی پر اگر قبضے کو دیکھا جائے تو ریلوے کی زمینوں پر قبضے کی کہانیوں کے بغیر لینڈ مافیا پر داستان ادھوری ہی رہتی ہے، پھر لینڈ مافیا اور قبضہ گروپ سرکاری اراضی پر قبضے کیلئے کیا کیا طریقہ اختیار کرتا ہے، اس کی ایک اہم مثال لاہورمیں رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب ہے۔

سپیکرقومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے 22اپریل2008کو ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب لاہور کو پاکستان ریلوے کی جانب سے49برس کیلئے دی گئی 141 ایکٹر اراضی کے معاملے کی شفافیت کو جانچنا تھا۔ اس 20رکنی کمیٹی نے دو سال سے زائد عرصے کی تفتیش کے بعد 26اگست 2010کو مذکورہ معاملے کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے 3 فوجی جرنیلوں سمیت متعدد اعلیٰ افسروں کی جائیدایں ضبط کرنے کی سفارشات پیش کیں اور ساتھ ہی ان تمام ذمہ داروں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کو کہا گیا۔
پاکستان ریلوے اور رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب لاہور کے درمیان 26جولائی2001کو ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق لاہور شہر کی نہر پر مال روڈ کے قریب واقع141ایکڑ ریلوے اراضی کو رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب کو انتہائی سستے داموںمیں 49سالوں کیلئے لیز پردے دیا گیا۔ اس معاملے کو شروع سے ہی غیر شفاف کہا گیا کیونکہ( موجودہ مالیت کے مطابق)40ارب روپے مالیت کی اراضی کو صرف 4روپے فی مربع گز کے حساب سے دے دیا گیا۔ جس سے ریلوے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

معاہدے کے مطابق فیز Iکیلئے حاصل کی گئی 103ایکڑاراضی کی لائسنسنگ فیس 2.5ملین ڈالر ( تقریباً 22کروڑ روپے ) اور اراضی کے استعمال کے چارجز(کرایہ) 4روپے فی مربع گز مقرر ہوا جس میں ہر تین سال بعد15فیصد اضافہ ہوگا۔( کرایہ کم از کم 18 روپے سالانہ) فیز II کی 38ایکڑ اراضی کی لائسنسنگ فیس 0.5ملین ڈالر ( تقریباً 4کروڑ 37لاکھ روپے) اور اراضی کے استعمال کا کرایہ4روپے فی گز( کل رقبہ 564680مربع گز ) مقرر ہوا جس میں ہر تین سال بعد 15فیصد اضافہ ہوگا۔ جبکہ فیز IIIکا کوئی ذکر نہیں۔
حیران کن امر یہ ہے کہ اسی زمین کے حوالے سے ریلوے کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اسی کمپنی یعنی رائل پام کلب سے مذکوہ بالا معاہدے سے قبل 20اپریل2001 کو بھی ایک معاہدہ کیا تھا جسے بعد میں ختم کر کے

مذکورہ بالا معاہدہ کیا گیا۔ پہلے معاہدے کے مطابق اراضی کی لائسنسنگ فیس 15کروڑروپے مقرر کی گئی اور کرایہ 2کروڑ 80لاکھ روپے سالانہ رکھا گیا۔ جبکہ آمدن پر10فیصد رائلٹی یا 18لاکھ روپے سالانہ بھی رکھی گئی۔ اس معاہدے کے مطابق لیز کا عرصہ 33سال مقرر کیا گیا جبکہ فیز IIیا IIIکا کوئی ذکر نہیں تھا۔

ایم این اے ندیم افضل چن کی سربراہی میں قائم کمیٹی جس میں ایم این اےز ، طارق تارڑ ، طارق شبیر ، ناصر علی شاہ ، نعمان اسلام شیخ ، فوزیہ وہاب ، نور عالم خان ، سردار ایاز صادق ، عابد شیر علی ، راجہ محمد اسد خان ، عبدالمجید خانان خیل ، ملک شبیر اعوان ، حاجی روز الدین ، پرویز خان ، شیخ وقاص اکرم ، ماروی میمن ، ارباب ذکاءاللہ ، انجینئر شوکت اللہ ، غلام مرتضیٰ جتوئی ، اقبال محمد خان اور وزیر ریلوے شامل تھے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کمیٹی کے ارکان نے برائے نام قیمت پر ریلوے کی اراضی رائل گالف اینڈ کنٹری کلب لاہور کو الاٹ کرنے کے معاملے پر بحث کی اور تحقیقات کیں۔ کمیٹی نے معاملے سے متعلقہ خصوصی ایشوز کاتفصیل سے جائزہ لیا اور ذمہ دار افراد کیخلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی۔اب 2 سال بعد کمیٹی کے ارکان اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔

کہ اس وقت کے وزیر ریلوے لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی ، سابق سیکرٹری اور چیئرمین ریلوے لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید ظفر ، سابق جنرل منیجر ریلوے میجر جنرل (ر)حامد حسن بٹ اور سابق سیکرٹری ریلوے خورشید عالم اس ناقص ڈیل کے ذمہ دار ہیں۔کمیٹی نے سفارش کی کہ اس ڈیل کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی جانی چاہئے اور ان کی جائیدادیں ضبط کرکے نیلام کی جانی چاہئیں۔
سپریم کورٹ نے اس معاملہ کو عوامی اہمیت اور عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ قرار دیتے ہوئے پر از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کیا اور اسی دوران رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد نہ ہوتا دیکھ کر پی پی کے بانی رکن ڈاکٹر مبشر حسن اور سابق وزیر مملکت برائے ریلوے اسحق خاکوانی نے بھی اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا تاکہ سابق جرنیلوں سے ناقص ڈیل کرنے پر جواب طلب کیا جائے اور معاہدے کو منسوخ کرنے کی بھی استدعا کی۔

ابھی حال ہی عدالت کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رہنماءحمزہ شہباز شریف کی شوگر مل کی زمین کے حوالے سے فیصلہ سناتے ہوئے حمزہ شوگر مل کی 800 ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے محکمہ مال کو حکم دیا گیا ہے کہ 800 ایکڑ سراکاری زمین حمزہ شوگر مل سے واپس لی جائے جبکہ محکمہ ان سے بقایا جات اور جرمانہ بھی وصول کر سکتا ہے۔ حمزہ شوگر مل کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ جس زمین پر انہوں نے قبضہ کر رکھا تھا وہ بنجر اور بے آباد زمین تھی۔ انہوں نے اس بے آباد زمین کو آباد کیا اور یہاں سے سرمایہ کمانے کا ذریعہ پیدا کیا اس لیے یہ زمین انہیں الاٹ کی جائے۔ عدالت کی جانب سے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے محکمہ مال کو حکم دیاگیا ہے کہ محکمہ اس سرکاری اراضی کو واگزار کروائے۔

جامعہ حفصہ اسلام آباد اور لال مسجد والوں نے ملحقہ سرکاری زمین پر قبضہ کر کے مدرسہ جامعہ حفصہ میں شامل کیا۔ یہ زمین نیشنل بک فاو¿نڈیشن کی ملکیت تھی۔ یاد رہے کہ مدرسہ کے لیے CDA نے 7 مرلہ پلاٹ مختص کیا تھا۔ جولائی 2007ء میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوجی کاروائی کے بعد یہ مدرسہ خالی ہو گیا، جس کے بعد اسے مسمار کر کے زمین واپس سرکار کے حوالے کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد کے نواح میں اربوں روپے مالیت کی 500 ایکڑ اراضی کوڑیوں کے مول فوجی اور سرکاری افسروں کو "سبزیاں ا±گانے اور مرغیاں پالنے” کے مقصد کے تحت دی۔ یہ اراضی اب عالیشان محلاتمیں بدل چکی ہے۔ فارمانیٹ ہاﺅسنگ سکیم کا ایکسٹیشن فیز ایل ڈی اے نے غیر قانونی قرار دیا تھا اور اس حوالے سے کمشنر لاہور کے پاس کیس زیر سماعت ہے مگر اس کے باوجود سکیم کی انتظامیہ جو ایک سیاسی پارٹی اور میڈیا سے تعلق رکھتی ہے اب بھی پلاٹ فروخت کر رہی ہے۔ جبکہ محکمہ انٹی کرپشن میں بھی کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں۔راولپنڈی کے ایک بڑے ہاﺅسنگ پراجیکٹ کے مالک کے خلاف مقدمہ بھی درج ہے۔ زمینوں کا کاروبار ایک منعفت بخش کاروبار ہے اور اس میں بڑے بڑے سیاستدانوں کے علاوہ ، بیوروکریٹ، آرمی کے ریٹائرڈ افسران، پولیس کے افسران کے علاوہ انڈر گراﺅنڈ ورلڈ کے سرکردہ ٹاپ ٹین بھی شامل ہیں جس وجہ سے اس مافیا کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔

قارئین جب اس لیول کے افراد لینڈ مافیا میں ہوں تو بھلا کون ان کے خلاف کارروائی کا سوچ سکتا ہے، مگر اب ضرب عضب اور کراچی آپریشن سے ایسے حالات پیدا ہو رہے کہ اب وہ دن دور نہیں کہ جب یہ سب بااثر افراد پکڑے جائیں گے ۔

’چائنا کٹنگ“ کیا ہوتی ہے ؟
آجکل میڈیا میں لفظ ”چائنا کٹنگ“سننے میں آ رہا ہے، یہ دراصل کراچی میں استعمال ہونے والی اصطلاح ہے،لفظ ”چائنا کٹنگ“ انسان کی تاریخ میں پہلی بار ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے استعمال کیا تھا۔ سرکاری یا نجی اراضی کو لینڈ مافیا ٹکڑوں میں تقسیم کر کے فروخت کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔

قبضہ گروپ کیا ہے؟
قبضہ گروپ ایسے اشخاص یا ٹولے کو کہا جاتا ہے، جو زبردستی یا غیر قانونی طور پر، یا قابل اعتراض ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے، کسی زمین کے ٹکرے پر قبضہ کر لیں۔ زمین ہتھیانے کی اس غنڈہ گردی کے لیے انگریزی سے ماخوذ "لینڈ مافیا” (Land Mafia ) کی اصطلاح بھی مروج ہے۔ عام طور پر قبضہ کا نشانہ سرکاری اراضی بنتی ہے، جیسا کہ پارک، باغات، ریلوے کی ملکیتی زمین، وغیرہ۔ اس کے علاوہ یتیموں، بیو¿اں کی زرعی اور رہائشی زمین پر قبضے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، اکثر یہ کسی سطح پر سرکاری اہلکار یا سیاسی رہنماءکی ملی بھگت سے کیا جاتا ہے۔

قبضہ گروہ کی کچھ اقسام
قبضہ گروہ عام طور پر بااثر افراد ہوتے ہیں جو اپنے پالتو غنڈوں کی مدد سے قبضہ قائم رکھتے ہیں۔ مگر اس کے عالاوہ کچھ لسانی، یا مذہبی گروہ بھی کسی سرکاری زمین پرمکاناتبنا کر رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ کئی برس گزرنے کے بعد، برسر اقتدار سیاست دان ان لوگوں کو سیاسی فائدہ کے لیے زمین کی قانونی ملکیت دے دیتے ہیں۔ "مذہبی راہنما” جو مدرسہ بنانے کی آڑ میں سرکاری زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں، یا برسر اقتدار نااہل حکمرانوں سے "آلاٹ” کروا لیتے ہیں۔ برطانوی راج سے لینڈ مافیا کا ایک موثر ہتھکنڈہ فرقہ وارانہ فسادات کرا کے مطلوبہ جگہ پر عمارات کو جلا کر خاکستر کرنا اور آبادی کا انخلاءکرانا ہے، جس کے بعد اراضی پر سستے داموں قبضہ کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔

سرکاری مہریں لینڈ مافیا کے قبضے میں
ایک رپورٹ کے مطابق بورڈ آف ریونیو کے شعبہ محال،سیٹلمنٹ،رجسٹریشن،ا یس اینڈ آر،ممبر زجوڈیشلز کے دفاتر،مصدقہ نقول برانچز سمیت اعلیٰ انتظامی ریونیو افسران کے زیر استعمال سرکاری مہروں کی رسائی ،لینڈ مافیا اور جعلسازوں تک عام ہو گئی ہے سرکاری مہروں پر قابض کلرک، منشی اور پرائیویٹ افراد کی ملکی بھگت سے لینڈ مافیا اورقبضہ گروپ فائدہ اٹھانے لگے ، جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف تو پنجاب بھر میں عوام کی کثیر تعداد جعلی مہروں کے استعمال کی بدولت اپنے ملکیتی ،وراثتی حقوق سے محروم ہو رہی ہے، لینڈ ریونیو ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے پٹوارخانوں میں تعینات پرائیویٹ افراد لینڈ مافیا کے آلہ کار بن گئے ، صوبائی دارلحکومت سمیت پنجاب بھر میں جعلی مہروں کا استعمال عام ہو گیا ہے، سرکاری مہروں کے غلط استعمال سے وسیع پیمانے پر جعلسازی ،فراڈ اور قبضہ مافیا کے راستے ہموار ہو گئے ،جعلی مہروں کے آزادانہ استعمال کی وجہ سے ہونے والی رجسٹریوں اور پرت سرکار انتقالات سے ایک قطعہ زمین کے کئی مالکان سامنے آجاتے ہیں جن میں سے سیاسی پشت پناہی اور سرگرم لینڈ مافیاگروپ اصل مالک اراضی کو اس کی ساری زندگی کی جمع پونچی سے محروم کر دیتا ہے ۔

جواب دیجئے

x

Check Also

میڈیا نے بات کا بتنگڑ بنا دیا … شرابی کو دہشت گردبنا دیا

منصور مہدی ….. پندرہ اگست کی شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب دارالحکومت اسلام آباد ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!