..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

بیٹی سے امتیازی سلوک کیوں؟

منصور مہدی
……شاہینہ کے ہاں جب بیٹی کی پیدائش ہوئی تو اس نے نہ صرف عزیز و اقارب میں لڈو تقسیم کیے بلکہ خواجہ سراؤں کو بھی بلایا اور خوشی کی محفل سجائی، محلے داروں اور بعض عزیزوں نے شاہنیہ کے اس عمل کا تمسخر اڑایا اور اس پر باتیں بنائی کہ بیٹی کی پیدائش پر ایسے خوشیاں منا رہی ہے کہ جیسے اس کے ہاں بیٹا ہوا ہو، مگر شاہینہ نے ان لوگوں کی کسی بات کا کوئی نوٹس نہ لیا اور اپنی رانی بیٹی کی آمد پر خوشیوں میں مگن رہی، اس کا شوہر بھی بہت اچھا ہے وہ شاہینہ کے حالات اور مزاج کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ اس کا بھرپور ساتھ بھی دیتا ہے۔
شاہنیہ کے والدین بہت ہی دقیانوسی قسم کے لوگ تھے، جو بیٹیوں پر بیٹوں کو ترجیح دیتے تھے، شاید خدا کو ان کی یہ بات اچھی نہ لگی اور پہلے بیٹے کے بعد ان کے چھ بیٹیاں ہی ہوئی، شاہینہ بھائی سے چھوٹی تھی ، مگر انھیں پھر بھی اس بات کی سمجھ نہ آئی، وہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے تھے، بیٹے کو بیٹیوں سے زیادہ محبت، اہمیت اور توجہ کا حقدار سمجھا جاتا تھا، حتیٰ کہ اسے بیٹیوں کی نسبت اچھی خوراک دی جاتی، جب وہ بڑا ہوا اور سکول میں جانے کی عمر ہوئی تو اسے بیٹیوں کی نسبت بہتر اور معیاری سکول میں داخل کروایا،اس کی ہر فرمائش پوری کی جاتی اور اس کی ہر غلطی معاف کردی جاتی۔
شاہنیہ کو وہ دن یاد ہے کہ جب اس کا بھائی کسی بات کی ضد کرتا تو والد اسے ہر حال میں پورا کرتے جبکہ بیٹیوں کی جائز درخواست کو بھی رد کر دیتے تھے، ایسا کئی بار ہوا کہ شاہینہ یا کسی دوسری بہن نے سکول کیلئے کوئی کاپی یا کتاب لانے کو کہا تو والد ٹالتے رہتے اور بھائی نے کھلونے بھی مانگے تو فوراً لا دیے، خوراک کے معاملے میں بھی یہی حال تھا اور تو اور بیماری کی صورت میں دوائی کیلئے بھی ترجیحی سلوک کرتے۔
شاہینہ اپنی دیگر بہنوں کی نسبت بہت حساس تھی ، وہ والدین کے اس رویے پر بہت کڑھتی ، والدین کے طرز عمل نے اسے چرچڑی بنا دیا، وہ ہر وقت جلتی رہتی مگر اس باوجود والدین کی کوئی گستاخی نہ کرتی، مگر شاہینہ سے چھوٹی بہن کی ناگہانی موت سے اسے پاگل کردیا،جب پروین کو بخار ہوا تو والد نے حسب معمول اسے کوئی اہمیت نہ دی اور محلے کی میڈیکل سٹور سے گولیاں لا کر دے دیں، مگر ان سے کوئی افاقہ نہ ہوا اور پروین کا بخار توٹنے کی بجائے بڑھتا چلا گیا، اس کی حالت غیر ہوتی چلی گئی مگر والد کے کان پر جوں تک نہ رینگی، موسم سرما کابخار نمونیا میں بدل گیا اور چند ہی روز بعد وہ گھر میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر انتقال کر گئی،بس پھر کیا تھا شاہینہ کا مزاج بدل گیا، اب وہ باغی بن گئی اور والدین کو بھی اہمیت دینا چھوڑ دی، والدین نے کئی بار شاہینہ کا تشدد کا نشانہ بنایا مگر اب اس نے کچھ اور ہی سوچ لیا تھا۔
شام کے وقت شاہینہ دیگر بہنوں کے ساتھ محلے میں ہی ایک خالہ نامی بزرگ عورت کے پاس قرآن پاک پڑھنے جاتی تھی، خالہ بھی ان کے گھر کے حالات جانتی تھی، پروین کی موت کا واقعہ بھی انھیں معلوم تھا اور وہ شاہینہ کی کیفیت کو بھی سمجھتی تھی، ایک روز جب خالہ نے دیکھا کہ شاہینہ آج بہت ہی مایوس نظر آرہی ہے، تو انھوں نے تمام بچیوں کو پاس بٹھا کر ان سے باتیں کرنا شروع کر دیں، کہ بیٹوں سے محبت اور بیٹیوں سے نفرت پر مبنی کہانی بہت پرانی ہے، زمانہ قدیم ہی سے بیٹوں کو بیٹیوں پرفوقیت دی جاتی رہی ہے،انھوں نے بتایا کہ اس ترجیح کی کچھ معاشی، سماجی اور نفسیاتی بنیادیں ہیں۔
خالہ کہنے لگی کہ انسان کا ابتدائی دور قبائلی اور زرعئی نظاموں پر مشتمل تھا، غذا کا حصول یا تو شکار کرنے پر منحصر تھا یا پھر کھیتی باڑی کے ذریعے غلہ اگانے پر، دونوں ہی صورتوں میں بڑی تعداد میں کام کرنے والی لیبر فورس یعنی مزدوروں کی ضرورت ہوتی تھی، بیٹا ہونے کی صورت میں ایک فرد کو مفت کا مزدور ہاتھ آجاتا اور بیٹی ہونے کی صورت میں وہ ان مزدوروں سے محروم رہ جاتا تھا، انھوں نے بتایا کہ اب تو زمانہ بہت اچھا ہے وگرنہ قدیم زمانے میں باپ کو اپنے بیٹوں پر تشدد، انہیں خاندان سے خارج کردینے، یہاں تک کہ انہیں قتل تک کرنے کے اختیارات بھی بعض صورتوں میں حاصل تھے، چنانچہ بیٹے اپنی معاشی اور سماجی بقا کے لئے باپ کے ساتھ جڑے رہتے، پھر بیٹے کو ترجیح دینے کی ایک سماجی وجہ یہ بھی تھی کہ بیٹوں اور پوتوں کی کثرت سماج میں ایک احساس تحفظ فراہم کرتی اور مبینہ دشمنوں سے دفاع میں معاون ثابت ہوتی تھی،اس کے برعکس بیٹی کی صورت میں ایک طرف تو محافظوں کی نفری میں کمی واقع ہوجاتی اور دوسری جانب لڑکی کی بلوغت اور شادی تک حفاظت کا بوجھ بھی بڑھ جاتا تھا۔
خالہ نے بتایا کہ جب لڑکے کے اس قدر دنیاوی فائدے نظر آنے لگے تو لوگ مرد کو برتر اور عورت کو کمتر مخلوق سمجھنے لگے، اسی طرح نسل کے تسلسل کا سلسلہ بیٹے سے جوڑ دیا گیااور ایک غلط تصور پیدا ہوگیا کہ اگر بیٹا نہ ہو ا تو نسل ختم ہوجائے گی، ان سب باتوں کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ بیٹی کی ولادت نفسیاتی طور پر ناپسند کی جانے لگی، پھر بعد میں پیدا ہونے والی نسلوں نے اس ناپسندیدگی کو ایک روایت کے طور پر قبول کرلیا، وگرنہ سائینس تو مرد اور عورت میں موجود صلاحیتوں کو یکساں قرار دیتی ہے بلکہ جہاں کچھ معاملات میں مرد میں کوئی خوبی زیادہ ہے تو وہاں عورت میں بھی کئی خوبیاں مردوں سے زیادہ ہے۔ جیسے مرد میں جسمانی برتری تو عورت میں قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے۔
خالہ نے بتایا کہ عورت کے بار ے میں دنیا کی ہر قوم کے عمومی خیالات کم و بیش ایک ہی جیسے فرسودہ ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ باقی قومیں وہ کہتی ہیں جو انکے صحیفوں میں لکھا ہے جبکہ ہم وہ نہیں کہتے جو قرآن میں لکھا ہے، یہودیوں کی کتاب توریت میں لکھا ہے کہ ’’آدم اپنی تنہائی سے اداس رہنے لگا تھا لہذا خدا نے اس کی پسلی سے حوا ( یہ لفظ اور پہلی عورت کے پیداہونے کا یہ نظریہ قرآن میں نہیں ہے) کو پیدا کیا تاکہ وہ اس کا دل بہلاتی رہے (پیدائش 2/21۔25)، اسی طرح توریت میں ایک اور جگہ لکھا ہے کہ عورت ابلیس کا پیکر ہے کیونکہ اسی نے آدم کو جنت سے نکلوایا (پیدائش3/8۔13)۔ انجیل میں بھی یہی کچھ لکھا ہے ۔
لیکن قرآن اس کی تردید کرتے ہوئے ایک طرف تو یہ بتاتا ہے کہ جس طرح عورت کو پیدا کیا گیا بالکل اسی طرح مرد کو بھی پیدا کیا گیا(1/النساء)اور دوسری طرف جنت سے نکالے جانے کے لیے عورت اور مرد (دونوں) کو برابر کا قصور وار ٹھہراتا ہے(36!البقرہ)۔قرآن کے مطابق سیرت و کردار کا کوئی ایک گوشہ بھی ایسا نہیں جس میں عورت اور مرد ہم مقام و ہم قدم نہ ہوں (35 !الاحزاب)اسی لیے حضور نبی اکرم مرد اورعورت کی مساوات کے قائل تھے ، قرآن تو کہتاہے کہ ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں‘‘ (71التوبہ) ۔
قرآن کہیں نہیں یہ کہتا کہ مرد عورت کا حاکم ہے اور لڑکے کو لڑکی پر فوقیت حاصل ہے، بلکہ قرآن نے انسان پر یہ بات واضح کردی کہ مرد اور عورت ایک ہی درجے کی مخلوق ہے، کتابِ ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے \’\’اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اس جوڑے سے دنیا میں بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائے\’\’ (سورہ النساء)، اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ا للہ تعالیٰ کے آگے مرد اور عورت ایک ہی درجے کی مخلوق ہے۔
خالہ نے ایسی اچھی باتیں سنا کر شاہینہ کا دل بہلانے کی کوشش کی اور کہا کہ اللہ کی کتاب ہدایت پر یقین رکھو یہ تمہارے توٹے دل کو سہارا دے گا اور مایوسی کے بادل دور کرے گا، یہ جاہل اور انپڑھ لوگ نہیں جانتے کہ بیٹی تو قدرت کا انمول تحفہ ہوتی ہے، جن گھروں میں بیٹیاں ہوتی ہیں وہاں کے ماحول میں ایک انوکھی رونق اور چہل پہل رہتی ہے، ہر طرف خوشی کا دور دورہ نظر آتا ہے، بیٹی، بیٹے کی نسبت زیادہ حساس ہوتی ہے، اس لیے وہ گھر والوں کا زیادہ خیال رکھتی ہے، ان کی ذرا سی پریشانی پر پریشان ہوجاتی ہے، خدا کی رحمت بیٹی کو زحمت سمجھنے والے خدائی احکام کی روگردانی کا باعث بن رہے ہیں، والدین کی کم عقلی کی وجہ سے گھروں میں ہونے والی ناانصافیوں بیٹیوں کو تنہا کرنے کا سبب بنتی جا رہی ہیں۔
شاہینہ بھی تنہا ہوچکی تھی، جب محلے کے ہی ایک گھرانے سے اس کا رشتہ آیا تو شاہینہ نے کوئی اعتراض نہ کیا، وہ تو اس گھر سے نکلنا چاہتی تھی، شادی کے بعد وہ سسرال چلی گئی، خدا نے والدین کی نا انصافی کا مداوا کر دیا اور اسے سسرال کے گھر میں ماں باپ کا پیار ملا، شوہر بھی بہت سمجھ دار تھا اور شاہینہ سے از حد پیار کرتا تھا، قدرت نے جب اسے بیٹی دی تو اس نے اپنے والدین کے برعکس اس کی پیدائش پر خوشیاں منائی، شاہینہ نے دل میں سوچ لیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو دوسری شاہینہ نہیں بننے دے گی۔

جواب دیجئے

x

Check Also

تنہائی میں تو ٹھیک ہے مگر بچوں کے سامنے نہیں

منصور مہدی …..محمد بن ترخان ابو نصر فارابی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!