..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

بارگاہ رب العزت میں عورت کا مقام

تحقیق : منصور مہدی
…..اگرچہ بعض مذاہب میں عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں پست سمجھا جاتا رہا ہے اور کہا جاتا رہاہے کہ عورتوں کی عبادت اور اعمال بھی بارگاہ رب العزت میں قبول نہیں ہوتے ۔ مگر اسلام نے ان سب افکار کو غلط قرار دیا ہے ۔ اسلام کی نظر میں عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ عورت بھی مرد ہی کی طرح ایک انسان کامل ہے اور تمام انسانی اوصاف اور پہلوﺅں میں مردوں کے مساوی ہیں۔ عورتیں بھی علم و ایمان اور تقوی کی اعلی منزلوں پر فائز ہو سکتی ہے۔
اسلام کی تعلیمات کے مطابق اعمال کی قبولیت کا دار و مدار افراد کا صالح و باایمان ہونا اور خلوص دل سے اعمال کا انجام دینا ہے۔ رب العزت نے قرآن کریم میں ایمان اور اعمال صالح کو عورت یا مرد سے مخصوص نہیں کیا بلکہ خدا وندہ عالم دونوں کے اعمال کو قبول کرتا ہے۔ سورہ نحل میں ارشاد ہوتا ہے۔ "جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انہیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے”۔قرآن پاک کی اس آیت سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ اللہ پاک کی طرف سے اجر و ثواب اور قرب الہی ، جنسیت سے مشروط نہیں ہے بلکہ ایمان اور عمل صالح سے مربوط ہے۔ عورتیں بھی اپنے نیک اعمال کا اجر پروردگار عالم سے مردوں کی طرح ہی حاصل کرتی ہیں۔
ویسے بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں انسانوں کو خلق کرنے کا اصل مقصد اپنی عبادت قرار دیا ہے اور انسانوں کی عظمت کو اپنی عبادت وبندگی سے مشروط قراردیا ہے۔اس بندگی میں کسی مرد یا عورت کی تخصیص بیان نہیں کی ہے کہ صرف مرد ہی میری عبادت کریں اور عورتیں میری بندگی نہ کریں۔ بندگی کا راستہ انسان کی بلند روح اور اس کے پاکیزہ نفس سے ہوکر گذرتا ہے۔یہی بندگی انسان کو خلیفہ الہی کے عہدے تک پہنچا دیتی ہے۔ چونکہ عورت کی روح اور صفت مردوں کی نسبت زیادہ لطیف و نازک ہوتی ہے لہذا وہ بڑے ہی آسانی سے مقام بندگی پر پہنچ سکتی ہیں کیونکہ کمال انسانیت تک پہنچنے کا ایک راستہ لطیف روح سے مالامال ہونا ہے۔
تاریخ اسلام کی عظیم عورتیں جیسے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کہ جو رب العزت کی بارگاہ میں اخلاص و عمل اور اطاعت و بندگی میں اسوہ اور نمونہ تھیں جب ہم ان کی پاکیزہ سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح و روشن ہوجاتی ہے کہ عبادت و قرب خداوندی جنسیت کی محتاج نہیں ہے بلکہ عورتیں بھی اس راہ میں کمال کی اعلی منزلوں پر فائز ہوسکتی ہیں۔
علم و دانش کے حصول کو اگر دیکھے تو اس بارے میں رب العزت نے بار بار تاکید ہے۔ ان کے پیغمبر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی تعلیم کے حصول کے بارے میں کہا ہے۔ ان باتوں کو اگر بغور دیکھا جائے تو دین اسلام نے علم و دانش کے حصول کے سلسلے میں دیگر افکار کے نسبت سب سے زیادہ تاکید کی ہے اور اس حوالے سے عورتوں اور مردوں سے خطاب کیا ہے۔ کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ علم و دانش کا حصول صرف اور صرف مردوں کا حق ہے یا صرف یہ مرد ہی حاصل کر سکتے ہیں اور عورتیں علم و دانش سے دور رہیںبلکہ اسلام نے علم ودانش کے حصول میں جنسیت کو کبھی بھی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ ” عورت ، تمام احکام عبادات اور اجتماعی حقوق میں مرد کے ساتھ شریک ہے اور جس طرح سے مرد ہر میدان جیسے میراث ، کسب معاش ، معاملات، تعلیم و تربیت اور اپنے حقوق کے دفاع وغیرہ میں خود مختار ہے اسی طرح عورت بھی خودمختار ہے سوائے ان چیزوں میں جو اس کے مزاج کے مخالف ہو ”
اسلام نے تو چودہ سو سال قبل ہی تعلیم کے حصول کی ترغیب دی تھی اور کہا تھا کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ حالانکہ انسانی حقوق ( خواتین کے حقوق) کے چیمپین برطانیہ میں گذشتہ صدی کے شروع تک تعلیم یافتہ عورتوں تک کو تعلیمی سند نہیں دی جاتی تھی بلکہ تعلیمی اداروں کے اعلی عہدیداروں کا خیال تھا کہ عورتوں کو تعلیمی سند نہیں دی جانی چاہیئے ۔لیکن مغرب اور یورپ کے نظریہ کے بر خلاف دین اسلام کی نظر میں عورتوں میں بھی مردوں ہی کی طرح علم حاصل کرنے کی صلاحیت و استعداد پائی جاتی ہے تا کہ معاشرہ دونوں یعنی مرد وعورت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکے اور ایک عظیم اور مثالی معاشرہ بن سکے۔
اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم متعدد مقامات پر ہمیشہ اہل علم کی تعریف و ستائش بیان فرمائی ہے اور جاہلوں کی مذمت و سرزنش کی ہے۔ قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں اہل علم و دانش کو مساوی و برابر قرار دیا ہے جس میں عورت و مرد دونوں شامل ہیں اور حدیث میں بھی علم و دانش کے حصول کی مرد وعورت دونوں سے تاکید کی گئی ہے۔
پروردگار عالم قرآن پاک کی سورہ مجادلہ میں ارشاد فرماتے ہیں ” خدا صاحبان ایمان اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے درجات کو بلند کرنا چاہتا ہے”۔چنانچہ عورتیںبھی مردوں کی طرح علم ودانش کے اعلی مراحل طے کرکے اپنے درجات بلند کر سکتی ہیں اورمعاشرے میں اپنی استعدادی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے معاشرے کو ایک عظیم مثالی معاشرہ بنا سکتی ہیں۔
مفکرین اسلام کا کہنا ہے کہ ” اگر عورت معاشرے میں علم و معرفت ، اخلاقی اور معنوی کمالات کہ جسے پروردگار عالم اور مذہب اسلام نے تمام انسانوں چاہے وہ مرد ہوں یا عورت دونوں پر یکساں و مساوی قرار دیا ہے تک پہنچ جائے تو اولاد کی تربیت بہترین طریقے سے ہوسکتی ہے ،گھر کا ماحول خوشگوار اور اچھا ہوسکتا ہے جس کی بنیاد پر معاشرہ بہت زیادہ ترقی کرے گا اور زندگی میں پیش آنے والی تمام مشکلیں بڑی آسانی سے حل ہوسکتی ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ عورت، عظیم انسان یعنی عظمت و بلندی کے اعلی مقام پر فائز ہو اور یہ ممکن ہے کیونکہ اسلام میں اس کا تجربہ ہو چکا ہے”۔
ویسے بھی یہ بات واضح ہے کہ اگر معاشرہ عورتوں کے حصول علم اور ترقی میں رکاوٹ ہو تو یہ عورتوں پر بہت بڑا ظلم شمار ہوگا چنانچہ مفکرین اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ اگر عورت میں صلاحیت موجود ہے یعنی اگر وہ علمی صلاحیتوں سے مالامال اور طرح طرح کی ایجادات اور انکشافات کے دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور معاشرہ اسے اس بات کی اجازت نہ دے کہ وہ اپنی ان صلاحیتوں سے استفادہ کرے اور اس میں نکھار پیدا کرے تو یہ اس پر سراسر ظلم ہے "۔
اسلام نے عورت کو پاک و پاکیزہ اور اچھے کام کرنے کا مکمل اختیار دیا ہے۔ اسلام کی نظر میں عورت کا عمل اور کام کرنا لائق ستائش اور سماج و معاشرے میں قابل احترام بات ہے ۔مفکرین کرام کا کہنا ہے کہ "عورت اور مرد دونوں اپنے اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور اس سلسلے میں کوئی بھی ایک دوسرے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ مرد ہی کی طرح عورت بھی جو مال و دولت ، محنت و مشقت کرکے کماتی ہے وہ خود اس کی مالک و مختار ہے۔ عورت اقتصادی اور سماجی سرگرمیاں بھی انجام دے سکتی ہے اور اس سے حاصل شدہ مال کو اپنے لئے ذخیرہ یا صحیح راہ میں خرچ بھی کرسکتی ہے "۔
اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی سورہ نسائمیں فرماتے ہیں کہ ” مردوں کے لیے وہ حصہ ہے جو انہوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انہوں نے حاصل کیا ہے ” یہ آیت اس بات کو بیان کررہی ہے کہ عورتیں اپنے مال کی خود مالک و مختار ہیں۔ اس بناء پر عورتیں بھی ، مردوں کی طرح تجارت اور کام وغیرہ کرنے کا حق رکھتی ہیں ۔اسی طرح عورت کے پاس جو بھی دولت و ثروت اپنے اعزہ واحباب جیسے ماں باپ ، بھائی بہن اور شوہر کی طرف سے موجود ہے اس میں بھی حق رکھتی ہے۔
جبکہ اسلام کے برعکس کہ جس نے ابتداءسے ہی عورت کو اقتصادی سرگرمیوں کے ساتھ ملکیت کا حق عطا کیا ہے مغرب خصوصا یورپ نے جہاں عورتوں کے حقوق کے دعویدار پائے جاتے ہیں گذشتہ صدی کے وسط تک اس بات کی اجازت نہیں دی تھی کہ وہ اپنی ذاتی ملکیت میں شوہر یا باپ کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکے۔
مفکرین اسلام کا کہنا ہے کہ ” اسلام نے عورت کے مقام و مرتبہ کو اتنا زیادہ بلند کیا ہے کہ وہ کمال کے اعلی مقام تک پہنچ سکتی ہے لوگوں کو چاہیئے کہ اسے ایک جنس کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسی رشد وترقی کی بنیاد پر، عورت مختلف اجتماعی اور سماجی میدانوں میں اہم کردار ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کرسکتی ہے کیونکہ اسلام نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ معاشرہ صحیح و سالم رہے اور اس کی بقاءکا سہرا عورت اور مرد کے صحیح وظائف پر عمل کرنے پر منحصر ہے اور ان افراد سے اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں اور خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں تاریخ شاہد ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیاسی میدانوں اور سماجی سرگرمیوں میں مردوں کی طرح عورتوں سے بھی بیعت لی اور عورتوں کو سیاسی میدانوں میں شریک کیا ۔اسلام کی تاریخ و تمدن اور موجودہ دور میں مسلمان عورتوں کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ اسلام کی نظر میں عورتیں مردوں کی طرح معنوی اور مادی میدانوں میں کمال کے اعلی مراتب پر فائز ہوسکتی ہیں اور اس سلسلے میں مردوں اور عورتوں کے درمیان ذرہ برابر بھی فرق نہیں پایاجاتا ہے”۔

جواب دیجئے

x

Check Also

وہ رنگوں میں ڈھلی ہوئی لڑکی روزانہ ہی آتی تھی

منصور مہدی ….. وہ رنگوں میں ڈھلی ہوئی لڑکی روزانہ ہی آتی تھی ۔ وہ ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!