..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن

حکومت ایک طرف نئے ادارے بنا رہی ہے تو دوسری طرف خواتین کی بہبود سے متعلق پہلے سے قائم ادارے ختم کر رہی ہے

جبران علی
پاکستان کی قومی اسمبلی نے19جنوری 2012 کو خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے خلاف امتیاز ختم کرنے کے لیے ’قومی کمیشن برائے خواتین بل 2011 اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس بل پر اگرچہ مسلم لیگ ن نے ابتدا میں کچھ تیکنیکی نوعیت کے اعتراضات کیے تھے لیکن بعد میں حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق رائے سے مختلف شقوں میں ترامیم کیں اور یہ بل منظور کر لیا گیا۔
اس بل کے مطابق یہ قومی کمیشن اسلام آباد میں قائم ہوگا جس میں چاروں صوبوں سے دو دو جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان، فاٹا اور وفاقی دارالحکومت سے ایک ایک رکن ہوں گے۔ کمیشن کے چیئرمین کے لیے لازم ہوگا کہ وہ پندرہ برس تک خواتین کی ترقی اور فلاح کے کاموں کا تجربہ رکھتے ہوں۔ جبکہ کمیشن کے اراکین گریڈ21 کے افسر کے مساوی حیثیت کے ہوں گے۔کمیشن کے چیئرمین کا درجہ وزیر مملکت کے برابر ہوگا اور ان کے یا کمیشن کے اراکین کی تنخواہ اور مراعات حکومت طے کرے گی۔ حکومت ابتدائی طور پر ایک فنڈ قائم کرے گی جس سے اس کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ اس کمیشن کے لیے حکومت ہر سال بجٹ مختص کرے گی لیکن عالمی اداروں سے عطیات بھی حاصل کیے جاسکیں گے۔
اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف نے جولائی 2000میں National Commission on the Status of Women کے نام سے ایک ادارہ بنایا تھا۔ جس کا مقصد پاکستان کی خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔ ایسا ادارہ یا کمیشن بنانے کے لیے کام اگرچہ 1995کے بیجنگ ڈیکلریشن پر دستخط کرنے کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ لیکن 1998میں نیشنل پلان آف ایکشن فار وویمن میں اس کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ کمیشن اب بھی کام کر رہا ہے ۔ لیکن اس نئے قانون کے تحت بننے والے کمیشن کے بعد پرویز مشرف کا آرڈیننس منسوخ ہوجائے گا اور موجودہ کمیشن کا عملہ اس نئے کمیشن میں منتقل ہو جائےگا۔
موجودہ کمیشن کی چیئرپرسن مسز انیس ہارون ہیں۔ان کے علاوہ 18ممبر ہیں۔این سی ایس ڈبلیو سیکریٹریٹ میں ایک ٹیکنیکل مشیر، پی ایس ٹو چیئرپرسن، پرجیکٹس منیجر آپریشن، کمیونیکیشن منیجر ، منیجر ریسرچ، فنانس آفیسر، ایڈمن اسسٹنٹ اور آئی ٹی ایکسپرٹ ہے۔ ان کے علاوہ دیگر جونیئر پوسٹوں پر بھی متعدد افراد کام کر رہے ہیں۔
اس ادارے کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق 2000سے2011تک یہ ادارہ خواتین کے حوالے سے صرف 20 کتب اور بروشرز شائع کر سکا ہے۔ جبکہ 2007کے بعد اس کی ویب سائٹ بھی اپ ڈیٹ نہیں ہو سکی ۔ جبکہ اس ادارے کی تشکیل کے حوالے سے دی گئی معلومات کے صفحے کو ایک بھارتی ہیکرز نے ہیک کیا ہوا ہے۔ مختلف ممالک کی این جی اوز کی رپورٹس کے علاوہ بیسیوں کتابوں کے لیکس دیے گئے ہیں مگر ان کے صفحات موجود نہیں ہیں۔
اب نئے قانون کے مطابق بننے والا یہ کمیشن ملک بھر میں خواتین کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کا ازالہ کرے گا اور تمام وفاقی اور صوبائی محکمے اور ادارے اس کے ساتھ تعاون کے پابند ہوں گے۔ کمیشن کو کسی معاملے میں تحقیق کرنے کی صورت میں سول کورٹ کے برابر اختیارات ہوں گے۔ کمیشن وزیراعظم کو اپنی کارکردگی کے بارے میں سالانہ رپورٹ پیش کرے گا۔کمیشن خواتین کی ترقی کے لیے حکومت کے اقدامات کو جانچنے کے بعد ضروری سفارشات بھی پیش کر سکے گا جب کہ حقوق نسواں کی خلاف ورزی کے تدارک کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کی نگرانی بھی کرے گا۔
اراکین پارلیمان اور حقوق نسواں کی سرگرم تنظیمیں خواتین کمیشن کے قانون کی متفقہ منظوری کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دے رہی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر کا کہنا ہے کہ نیا کمیشن زیادہ با اختیار ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی حالت زار سے متعلق ”نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن“ کے بل میں 22 ترامیم کے بعد پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں ایسا ایک با اختیار کمیشن قائم کیا جا رہا ہے۔یہ کمیشن مالی اور انتظامی اعتبار سے زیادہ خود مختار ہو گا۔
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ کمیشن خواتین کے تحفظ کے لیے ملک میں نافذ قوانین پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لے گا اوراس کمیشن کے پاس یہ اختیارات بھی ہوں گے کہ وہ انکوئری کر سکے کہیں بھی جہاں خواتین کو مسائل درپیش ہیں خاص طور پر تشدد کے حوالے سے بھی۔ ہماری بہت ساری بین الاقوامی کمٹمنٹس بھی ہیں دنیا میں جو ہم نے مختلف معاہدوں پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ یہ کمیشن ان چیزوں کو بھی دیکھے گا کہ بین الاقوامی قوانین پر ہم کتنا پور اتر رہے ہیں۔اب کمیشن کو مخصوص جوڈیشل اختیارات دیئے گئے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو طلب کر سکے اگر کہیں کوئی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ صوبوں کے ساتھ مل کر اور ان کی اجازت کے ساتھ جیل کا دورہ بھی کر سکے گا۔خواتین کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے مجوزہ کمیشن کو مکمل طور پر ایک خود مختار حیثیت حاصل ہو گئی اور اس کے چیئرپرسن کی تقرری وزیراعظم اور حزب اختلاف کی مشاورت کے ذریعے پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کی جائے گی۔
خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستانی پارلیمان میں گزشتہ اور جاری سال میں حقوق نسواں کے حوالے سے اہم قانون سازی قابل ستائش ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے جہاں نئے قانون بنانا ضروری ہے وہیں ان قوانین پر موثر عملدرآمد بھی اتنا ہی اہم ہے اس لیے حکومت خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں کمی کے لیے قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت خواتین کی بہبود اور تحفظ کے لیے نئے قوانین اور ادارے بنا رہی ہے لیکن دوسری طرف پہلے سے موجود ایسے موثر ادارے ختم کر رہی ہے۔ ایسی ہی ایک مثال 1997ءمیں قائم ہونے والے ویمن کرائسز سنٹرزکی ہے۔جن کی ملک بھر میں تعداد 26ہے۔ بعد ازاں ان مراکزکا نام "فیملی پروٹیکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن سنٹرز”رکھ دیا گیا اور اس کے بعد اِن مراکز کو بے نظیر بھٹو شہید مراکز کے نام سے منسوب کر دیاگیا۔ یہ مراکز وفاقی وزارت برائے خواتین کے تحت کام کرتے تھے۔
جبکہ آئینی ترمیم کے نتیجے میں وفاق نے بیشتر وزارتیں صوبوں کو منتقل کیں توجون 2011ءمیں وفاق نے اس وزارت کو تحلیل کر دیا تو یہ مراکز بے یارو مدگار ہو گئے۔ پنجاب حکومت نے اپنے صوبے میں موجود شہید بینظیر بھٹو مراکز سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا اور صوبہ سندھ میں ان مراکز کو مراکز کی بندش پر کام شروع ہو گیا۔ ان مراکز میںمالی وسائل کی کمی شروع ہو گئی ۔ وفاق کی جانب سے مالی معاونت ختم ہوگئی اور صوبوں نے بھی خاطر خواہ مالی وسائل اور اِمداد فراہم نہیں کیے گئے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے اِقدامات کا مطلب یہ ہے کہ ان مراکز کا مستقبل اب تاریک ہے اور سماجی خدمت کا ایک باب ہمیشہ کے لئے بند کیا جا رہا ہے۔ تاہم بلوچستان حکومت کے کوئٹہ میں قائم ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تگ و دو سے وہاں پر قائم مرکز تاحال قائم ہے مگر خیبر پختونخوا میں ان مراکز کا مستقبل یقینی دکھائی نہیں دے رہا۔
حالانکہ ملک بھر میں قائم ان26 مراکز کی کارکردگی کے حوالے سے 26اکتوبر 2011کو نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن نے ایک جائزہ رپورٹ جاری کی۔ این سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن ڈاکٹر انیس ہارون نے اس جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک بھر میں قائم بینظیر بھٹو شہید ویمن سنٹرز صنفی امتیازات کا شکار ہونے والی خواتین کو کلیدی اور نہایت بیش قیمت خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ جائزہ سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے اداروں کو صوبائی حکومتوں، حقوق نسواں کے لئے کام کرنے والے اداروں، عوام اور غیر سرکاری اداروں سے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ان کی فعالیت میں مزید اِضافہ کیا جا سکے۔ جائزے میں اِن مراکز کے بارے میں اِصلاحات بھی تجویز کی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ خواتین کو فراہم کی جانے والی قانونی و مالی امداد کی دیگر سرگرمیوں کو بھی انہی مراکز کے ذریعے فراہم کیا جائے لیکن ان مراکز کو ختم نہ کیا جائے۔
جب حکومت ایک طرف نئے اداروں کی تشکیل اور پہلے سے قائم اداروں کو ختم کرنے کی روش ختم نہیں کرے گی تب تک سماجی، ثقافتی اور سیاسی شعبوں میں خواتین کی ترقی و خوشحالی کے لیے حکومتی اقدامات موثر نہیں ہو سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو عورتوں کو زندگی کے تمام شعبوں میں بلا امتیاز ترقی دینا ہو گی اور ایسے تمام قوانین، جو عورتوں کی زندگیوں کو متاثر کررہے ہیں ،کوختم کرنا ہوں گے۔ عورتوں کے بارے میں منفی رویوں و رجحانات کو کم کرنے کیلئے مو¿ثر قانون سازی کرنا ہوگی۔ ایسی قانون سازی کرنا ہو گی جس کے ذریعے سے عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کا باعث بننے والے رسم و رواج اور روایات کا خاتمہ ہو سکے۔ خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے اور انہیں بااختیار بنایا جائے۔ ایسے رسم و رواج، روایات اور قوانین کی حوصلہ شکنی کی جائے جو عورتوں پر تشدد اور ان کے حقوق کی پامالی کا سبب بنتے ہیں۔ خواتین کے حصولِ روزگار کو یقینی بنایا جائے اور انہیں مردوں کے برابر اجرت فراہم کی جائے۔ ملازمت کرنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں۔ جنسی ہراسانی کے بل سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ پالیسی ترتیب دی جائے اور سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں اس کے عملی نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ جنس اور صنف کی بنیاد پر ہونے والی تقسیم کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ عورت میدان عمل میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہونے کے قابل ہو سکے۔

جواب دیجئے

x

Check Also

پی ٹی آئی نے پارٹی انتخابات کرواکر حقیقی جمہوریت کی بنیاد رکھ دی

منصور مہدی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارٹی انتخابات ملکی سیاسی تاریخ میں ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!