..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

اسلحہ کا اتوار بازار

ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں کا اتوار بازار
نئی پالیسی کے مطابق نہ صرف ممنوعہ بور اسلحہ کا لائسنس ااسانی سے مل سکے گا بلکہ آرمی کا اسلحہ خریدا بھی جا سکے گا

جبران علی
 سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسلحہ لائسنوں کے اجراءکی نئی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ وزارت داخلہ 8 دن کے اندر نظر ثانی شدہ پالیسی پیش کرے ۔وزارت داخلہ کی نئی تجویز کے مطابق ممنوع اور غیر ممنوع بور اسلحہ کے لائسنس کے حصول کے لئے ممبر قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ ممبران کی تائید ضروری ہو گی۔ اس تجویز کے مطابق ماہانہ دس لائسنس ممنوع اور دس غیر ممنوع بور اسلحہ ممبران پارلیمنٹ کو جاری کئے جائیں گے۔ اسی طرح پانچ اسلحہ لائسنس ممنوع اور پانچ غیر ممنوع ایم پی ایز کو ماہانہ جاری کئے جائیں گے۔ اس طرح ماہانہ 7700 ممنوع بور اور 15800 غیر ممنوع بور کے اسلحہ لائسنس جاری کئے جا سکیں گے۔
وزارت داخلہ نے کمیٹی کو آگاہ کیاہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران وزارت نے ممنوعہ بور کے 40ہزار 813 اور غیر ممنوعہ بور کے 50ہزار 668 لائسنس جاری کئے۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ30جون 2011ء کے بعد سے وزارت داخلہ نے کوئی اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا کیونکہ اب تمام اسلحہ لائسنس جاری کرنے کا اختیار صوبوں کو حاصل ہے۔
صوبوں کو اختیارات ملنے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں کے اجراءکی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس ڈسٹرکٹ کو آرڈی نیشن آفیسرز جاری کر سکیں گے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ڈی سی او لاہور کو ہر ماہ غیر ممنوعہ بور کے 125 اسلحہ لائسنس جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی کے ڈی سی اوز غیر ممنوعہ بورکے 50، 50 اسلحہ لائسنس جاری کر سکیں گے جبکہ پنجاب کے باقی تمام اضلاع کے ڈی سی اوز ہر ماہ 25 ،25 اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میںیہ تجویز پیش ہوئی کہ پاکستان میں پہلے ہی دو کروڑ کے قریب ممنوعہ ، غیر ممنوعہ ، لائسنسی اور غیر لائسنسی اسلحہ موجود ہے لہذا معاشرے میںمزید لا قانونیت کو روکنے کیلئے اسلحہ لائسنسوں کے اجراء پر مکمل پابندی ہونی چاہیے تاہم بیشتر سینیٹرز نے اس تجویز سے اختلاف کیا اور کہاکہ شہریوں کو اپنے تحفظ کیلئے اسلحہ لائسنس حاصل کرنے اور اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔اسلحہ لائسنس پر پابندی کے جواز میں بتایا گیا کہ کراچی میں گزشتہ دس سالوں میں اسلحے کے ساڑھے پانچ لاکھ سے زائدلائسنسز جاری کیے گئے ہیں جن میں ممنوعہ بور کا اسلحہ بھی شامل ہے۔ ( یاد رہے کہ قیامِ پاکستان سے 2001 تک کراچی میں اسلحے کے صرف 50 ہزار لائسنس جاری کیے گئے تھے)۔جبکہ وزیراعظم گیلانی کے پہلے 2برس میں 29000 ممنوعہ بور اسلحہ کے لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔یہ اسلحہ لائسنس حاصل کرنے والے والوں میں سیاسی لوگوں کی اکثریت ہے۔
وزیر اعظم کی سفارش پر جاری ہونے والے ممنوعہ بور اسلحہ نہ صرف مرد سیاستدانوں بلکہ خواتین پارلیمنٹرین نے بھی حاصل کیے ۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق لاہور سے پیپلز پارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شکیلہ خانم رشید نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ممنوعہ بور کا جدید اسلحہ بشمول سب مشین گنز خریدنے کیلئے15 لائسنسوں کی منظوری حاصل کی تھی۔وزیر اعظم کی طرف سے ان15افراد کی فہرست وزارت داخلہ کو بھجوا ئی گئی جن کے نام پر بھاری اسلحہ کے یہ لائسنس جاری ہوئے۔ وزیراعظم سکرٹریٹ سے جاری ڈائریکٹو نمبر 1240 کے مطابق وزارت داخلہ کو یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ شکیلہ خانم کو فوری طور پر 15ممنوعہ بور اسلحہ کے لائسنس جاری کیے جائیں اور ان کے لیٹر پیڈ پر دیے گئے ناموں کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ وہ کون لوگ ہیں اور ممنوعہ بور کا آتشیں اسلحہ کا استعمال کیا ہوگا؟ وزیراعظم کے دفتر سے ایڈیشنل سیکرٹری نے وزارت داخلہ کو چٹھی لکھی کہ شکیلہ خانم جن افراد کے لیے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس چاہتی ہیں ان کی منظوری وزیراعظم نے دے دی ہے۔ ”
وزیراعظم کی طرف سے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے حوالے جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ کہ وزیراعظم ممنوعہ اسلحہ کے لائسنس کے علاوہ وہ اسلحہ بھی پاکستان آرڈیننس فیکٹری سے خریدنے کی اجازت دے رہے ہیں جو صرف پاکستان آرمی کے استعمال کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جہاں دیگر خرافات پھیل رہی ہیں وہاں ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے کا بھی رجحان بڑھ رہا ہے ۔ اس رجحان میں تیزی ہمارے سیاستدان لا رہے ہیں بلکہ اب ممنوعہ بور کا اسلحہ ہمارے سیاسی کلچر کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں نے اتنی بڑی تعداد میں ممنوعہ بور کے ہتھیاروں کے لائسنس حاصل کئے ہیں کہ جن سے فوج کی کئی بریگیڈ تشکیل پا سکتے ہیں۔ ممنوعہ بور کے ہتھیاروں میں کلاشنکوف اور مشین گن ایسے ہتھیار ہیں جن کے لئے ہر سیاستدان، بڑا زمیندار اور اربن مافیا خواہش رکھتا ہے کہ ان کے پاس یہ وافر تعداد میں ہوں تاکہ وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکیں۔ یہ مظاہرہ اکثر اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب یہ لوگ رنگدار شیشوں والی گاڑیوں میں ایسے ہتھیاروں سے مسلح اپنے کارندوں کے ہمراہ قانون شکنی کرتے ہوئے غیر قانونی تیز رفتار کے ساتھ کھلے عام ٹریفک کے درمیان سے فراٹے بھرتے ہوئے گزرتے ہیں جیسے انہیں قانون پر عمل سے استثنیٰ حاصل ہو یا پھر یہ مسلح کارندے گاڑی پارک کرنے کے بعد اپنے آقا یا اس کے بچے کی واپسی کے انتظار میں کھلم کھلا گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے کا فیشن دراصل اس ’کلاشنکوف کلچر ‘کا حصہ ہے جس نے 70ءکے آخر اور 80ءکے عشروں کے دوران ہونے والی افغان جنگ کے بعد ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑی تھی۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں اسلحہ لائسنسوں کے حوالے سے پیش ہونے والی پالیسی اور حکومت پنجاب کی جانب سے اعلان کردہ اسلحہ پالیسی کے مطابق جس کے تحت ممنوع اور غیر ممنوع بور اسلحہ کے لائسنس کے حصول کے لئے ممبر قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ ممبران کی تائید ضروری ہو گی۔( ہر ممبر ہر ماہ 10 لائسنس ممنوع اور 10 غیر ممنوع بور کی تائید کر سکے گے) واضح رہے کہ ممنوعہ بور کے لائسنسوں کا اجراء ان بہت سی مراعات میںسے ایک ہے جو قومی اور صوبائی ممبران اور سینٹ ممبران کو حاصل ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ان عوامی نمائندوں کو جتنی بڑی تعداد میں ممنوعہ ہتھیاروں کے لائسنس جاری کئے گئے ہیں اور آئندہ اس حوالے سے جو تائیدی اور تصدیقی اختیارات دیے جا رہے ہیں دراصل وہ قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے کیونکہ کچھ بھی ہو یہ ہتھیار استشنائی حالات کے سوا ’ممنوعہ‘ ہی قرار پاتے ہیں ۔ لیکن نئی پالیسی کے مطابق اب ایسا نظر آتا ہے کہ استشنائی کیسوں کے سوا یہ سب اب ہر کوئی حاصل کر لے گا۔ اب یہ اسلحہ لائسنسان ممبران کے ذریعے ان کے دوستوں، فیملی اور دیگر کو رشوت کے طور پر ملنے شروع ہو جائیں گے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں جہاں پہلے ہی غیر ممنوعہ بور کے لائسنسوں کی بھرمار ہے اب وہاں ممنوعہ بور کے اسلحہ کے لائسنس بھی عام ہو جائیں گے بلکہ شاید اب یہ بکنے بھی لگے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ممنوعہ بور کے اسلحہ کی فراوانی میں جعلی لائسنسوں کو بھی بہت اہم کردار ہے۔قومی اسمبلی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ قمرزمان چودھری نے بتایا کہ صرف کراچی میں ایک ہزارچودہ اسلحہ لائسنس پارلیمنٹیرینزکی جعلی سفارش پرجاری کئے گئے تھے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی میں اسلحہ لائسنسوں کی جانچ پڑتال کے دوران 45 ہزار ممنوعہ بورکے اسلحہ لائسنسوں میں سے تیس ہزارجعلی نکلے، جنہیں منسوخ کردیاگیاہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی حکومتیں اسلحہ لائسنسوں کو بھی پرمٹ کی طرح ایم این ایز کو خوش کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ جنرل مشرف کے شروع کے دور میں اسلحہ لائسنسوں کے اجراء پرپابندی لگی رہی لیکن جب ملک میں انتخابات کے بعد ظفراللہ جمالی کی حکومت آئی تو جنرل مشرف نے ایم این ایز کو خوش رکھنے کے لیے اسلحہ لائسنس دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ جس کے تحت ہر ایم این اے دو سو کے قریب لوگوں کے نام غیر ممنوعہ اسلحہ لائسنس کی سفارش وزارت داخلہ کو کر سکتا تھا اور وزارت اس پر لائنسس جاری کرنے کی پابند تھی۔ یوں دھڑا دھڑ اسلحہ لائسنس جاری ہونا شروع ہو گئے اوربدعنوان سیاسی عناصر نے اسے بھی آمدنی کا ایک ذریعہ بنا لیا۔لیکن موجودہ حکومت میں اب ممنوعہ اسلحہ کے لائسنس بھی وزیراعظم نے ایم این ایز کی سفارش پر جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔
مبصرین کے خیال میںملک میں یہ بڑھتی ہوئی اسلحہ بندی عوام کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے اس سے باہمی اختلافات کو تشدد کے ذریعے طے کرنے کے رحجان میں اضافہ ہوگا۔اس سے لوگوں میں قانون اپنے ہاتھوں میں لینے اور مسلح جتھے رکھنے کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔ جس سے معاملات تشدد سے طے کرنے اور عدم رواداری کو مزید فروغ ملے گا۔
ملک کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب تشدد اور دہشت گردی بڑھ رہی ہے حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ لوگوں کو اس بات پر مائل کریں کہ معاشرے کو ہتھیاروں سے پاک کیا جائے نہ کہ وہ معاشرے کو مزید مسلح کرنے میںغیر ممنوعہ اور ممنوعہ اسلحہ لائسنسوں کا اتوار بازار کھول دے۔

جواب دیجئے

x

Check Also

پی ٹی آئی نے پارٹی انتخابات کرواکر حقیقی جمہوریت کی بنیاد رکھ دی

منصور مہدی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارٹی انتخابات ملکی سیاسی تاریخ میں ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!