..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

سپریم کورٹ نے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیدیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما کیس سے متعلق دائر درخواستوں پر نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعیداور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے 21 جولائی کو 3 رکنی خصوصی بینچ کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا۔

فاضل بینچ کے پانچوں جج صاحبان نے متفقہ طور پر نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے، عدالتی فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر اور اس میں جے آئی ٹی اور ایف آئی اے کے مواد کو مدنظر رکھا جائے۔ وزیراعظم کے خلاف ہل میٹل، عزیزیہ مل اور لندن فلیٹس کے معاملات میں بھی ریفرنس دائر کئے جائیں۔ ایک جج فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے غلط معلومات فراہم کیں، وہ صادق اورامین نہیں رہے، الیکشن کمیشن نااہل قرار دیے گئے افراد کی نا اہلی کا نوٹی فکیشن جاری کرے، وزیر اعظم فوری عہدہ چھوڑدیں اور صدرمملکت جمہوری تسلسل کو یقینی بنائیں۔

دوسری جانب ترجمان مسلم لیگ (ن) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی عملدرآمد بینچ کے روبرو جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی عدالت نے 5 سماعتوں کے دوران رپورٹ پرفریقین کے اعتراضات سنے اور 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اہم نکات
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے متفقہ فیصلے نواز شریف کو نااہل اور ان کے خاندان کے ممبران کے خلاف مقدمے درج کے احکامات جاری کیے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے چیدہ چیدہ نکات۔

قومی احتساب بیورو سپریم کورٹ فیصلے کی تاریخ 28 جولائی 2017 سے چھ ہفتے کے اندر جے آئی ٹی، فیڈرل انویسٹیگشن اور نیب کے پاس پہلے سے موجود مواد کی بنیاد نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ریفرنس دائر کرے۔

نیب نواز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف عدالتی کارروائی میں شیخ سعید، موسیٰ غنی، جاوید کیانی اور سعید احمد کو بھی شامل کرے۔ نیب ان افراد کے خلاف سپلیمنٹری ریفرنس بھی دائر کر سکتا ہے اگر ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی۔

احتساب عدالت نیب کے جانب سے ریفرنس فائل کیے جانے کی تاریخ کے چھ ماہ کے اندر ان ریفرنسز کا فیصلہ کرے۔

اگر مدعا علیہان کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی دستاویزات جھوٹی، جعلی اور من گھڑت ثابت ہوں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

نواز شریف نے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی ایف زیڈ ای میں اپنے اثاثوں کو 2013 میں اپنے کاعذات نامزدگی میں ظاہر نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ اب پیپلز ایکٹ 1976 کی سیکشن 99 کی روشنی میں ایماندار نہیں رہے لہذا وہ پیلز ایکٹ 1976 کی سیکشن 99 اور آرٹیکل 62 (اے) کی روشی میں پارلیمنٹ کے ممبر کے طور نااہل ہیں۔

الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا فوری نوٹیفکیشن جاری کرے۔

صدر مملکت ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔

چیف جسٹس سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ سپریم کے ایک جج کو اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کے تعینات کیا جائے۔

جواب دیجئے

x

Check Also

میر شکیل الرحمان کے خلاف توہین عدالت کی ایک اور درخواست

سپریم کورٹ میں جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کے خلاف توہین عدالت کی ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!