..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

لاہور میں فیروزپور روڈ پر خودکش حملے میں 26 افراد جاں بحق اور 52 زخمی

لاہور: لاہور میں فیروزپور روڈ پر ارفع کریم ٹاور کے قریب سبزی منڈی کے علاقے میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 26 افراد جاں بحق اور 52 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا جن میں سے 7 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ڈی سی او لاہور نے بتایا کہ دھماکے میں 26 افراد جاں بحق اور 52 زخمی ہوئے۔ ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف نے کہا کہ یہ دھماکا خودکش تھا جس میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک گاڑی آکر رکی جس کے بعد زوردار دھماکا ہوگیا اور وہاں کھڑی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں میں آگ لگ گئی۔ سیکیورٹی حکام نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہےاور سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ پاک فوج کے دستے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔

خودکش حملہ آور نے پولیس ناکے پر خود کو دھماکے سے اڑادیا۔ فوٹو: اے ایف پی

لاہور کے علاقے فیروز پور روڈ پر ارفع کریم ٹاور کے قریب دھماکے سے 26 افراد جاں بحق جبکہ 52 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ دھماکا ایک گاڑی کے اندر ہوا جس سے قریب کھڑی متعدد موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں بھی آگ لگ گئی۔ دھماکے سے تباہ ہونے والی گاڑی کا نمبر ایل آر بی 9308 تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق ایک گاڑی ون وے ٹریفک کی خلاف ورزی کرتی ہوئی آئی اور سامنے سے آنے والی ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔ ٹکرانے کے فوری بعد گاڑی میں دھماکا ہو گیا جس سے موٹر سائیکل پر سوار ایک مرد، خاتون اور موقع پر موجود پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جگہ پر 20 سے 25 افراد موجود تھے۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے حادثہ پہنچ گئیں اور ایمبیولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے بعض افراد کی حالت نازک ہے، جنھیں بھرپور طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کے پیش نظر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنرل ہسپتال میں 38 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکا خود کش لگتا ہے۔

ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ارفع کریم ٹاور کے قریب پرانی عمارتوں کو مسمار کرنے کا آپریشن جاری تھا۔ دھماکے کی نوعیت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پہلے ہی ہائی الرٹ ہے، تاہم دھماکے کے بعد سیکیورٹی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کوٹ لکھپت دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دھماکے میں شہریوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ زخمی ہونے والے افراد کو علاج معالجہ کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں اور دھماکے کی جگہ پر امدادی سرگرمیاں تیز کی جائیں۔

lahore

م ڈسپوزل اسکواڈ اور فارنسک ماہرین نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردی ہیں اور یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ خودکش بمبار پیدل تھا یا حملے میں کوئی گاڑی یا موٹرسائیکل استعمال کی گئی۔ پنجاب حکومت کے مطابق علاقے میں پولیس اور مقامی انتظامیہ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں مصروف تھی جب کہ ارفع کریم ٹاور کے قریب پرانی عمارتوں کو بھی گرایا جارہا تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کوٹ لکھپت سبزی منڈی میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو دھماکے کی جگہ پر امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لاہور

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی لاہور دھماکے کے باعث آج اپنی اہم پریس کانفرنس ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاحال یہ پتہ نہیں چلا کہ دھماکا خودکش ہے یا بارودی مواد نصب کیا گیا تھا، دہشت گردی کیخلاف 90 فیصد کامیابی حاصل کرلی ہے، دھماکہ کرکے دہشت گرد خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، کوئی نئی تنظیم ملک میں پنجے نہیں گاڑ رہی بلکہ دہشت گرد نام بدل بدل کر کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی طالبان کبھی جماعت الحرار کبھی لشکر جھنگوی کا نام استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل محکمہ داخلہ پنجاب نے دہشتگردی کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔

جواب دیجئے

x

Check Also

12 سالہ لڑکی کے ریپ کے بدلے میں 17 سالہ لڑکی کا ریپ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے علاقے مظفرآباد میں ایک ہی خاندان کے ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!