..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

عربوں میں میڈیا جنگ عروج پر پہنچ گئی

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بگڑتے تعلقات کے پیش نظر ان ممالک کے درمیان میڈیا جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ فریقین ایک دوسرے پر دہشت گردی کی حمایت اور کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سعودی عرب کے روزنامہ عکاظ نے فروری کے مہینے میں ای بی سی نیوز میں نشر ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے قطر کے حکمران خاندان اور القاعدہ کے درمیان تعلقات کا الزام لگایا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 11 ستمبر کے حادثے کا ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد قطر کے حمران خاندان کی ایک فرد عبد اللہ بن خالد آل ثانی کی سر پرستی میں تھا اور ان سے خاطر خواہ امداد حاصل کرتا تھا یہ امداد اس بات کا سبب بنی کہ امریکی ایجنسیاں ایف بی آئی اور سی آئی اے اسے بر وقت گرفتار نہیں کر سکیں۔

عکاظ نے ایک اور رپورٹ میں کہا ہے کہ قطر اور داعش، اخوان المسلمین اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے رشتے میاں بیوی جیسے ہیں، ان کے درمیان شادی ہو چکی ہے۔

قطر اور القاعدہ کے قریبی روابط کی تائید اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد حاصل ہونے والے ایبٹ آباد کے دستاویزات بھی کرتے ہیں۔

عکاظ نے ایک اور مقالے میں قطر پر دہشت گردوں کی مالی امداد کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ قطر اپنے سرمائے سے دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرتا ہے تاکہ خطے کے ممالک کے امن و سکون اور سلامتی کو درہم برہم کر سکے۔

سعودی روزنامہ المدینۃ نے لکھا ہے کہ قطر دہشت  گردوں کا قبلہ اور پناہ گاہ بن چکا ہے۔

اسی طرح متحدہ عرب امارات کے روزناموں نے بھی سعودی عرب کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے قطر کے خلاف مقالات کا ڈھیر لگا دیا ہے اور اس ملک پر دہشت گردی کی حمایت کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔

ان تمام باتوں کے جواب میں قطر نے کہا ہے کہ ان بیہودہ باتوں کے لئے کوئی عذر قابل قبول نہیں۔

قطر کے روزنامہ الوطن نے لکھا ہے کہ بعض عناصر قطر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمارے خلاف بیہودہ اور بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔

جواب دیجئے

x

Check Also

12 سالہ لڑکی کے ریپ کے بدلے میں 17 سالہ لڑکی کا ریپ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے علاقے مظفرآباد میں ایک ہی خاندان کے ...

............................. ...........................................
Click to listen highlighted text!