..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

عرب ممالک میں پھوٹ پڑ گئی، ایک دوسرے پر دہشتگروں کی مدد کرنے کا الزام

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، یمن اور لیبیا   نے قطر کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات منقطع کرتے ہوئے اسے عرب فوجی اتحاد سے بھی خارج کردیا، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے۔

عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنے زمینی، آبی اور ہوائی راستے بھی بند کردیے ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے بتایا کہ ریاض حکومت نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں جب کہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خطرات سے بچنے اور قومی سلامتی کے پیش نظر قطر کے ساتھ سرحدیں بھی بند کی جارہی ہیں۔ سعودی ایجنسی نے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہ قطر القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں اور باغی ملیشیاؤں کی حمایت کرتا ہے اور اس کے اقدامات سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب نے قطری حکام پر گزشتہ کئی سال کے دوران سنگین خلاف ورزیوں کا الزام بھی عائد کیا۔

بحرین نے قطر پر اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے اور سلامتی و استحکام کو خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے باہمی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ قطر اخوان المسلمون سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔ مصر کی وزارت خارجہ کا بیان میں بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ مصر نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مصر قطری جہاز اور طیاروں کے لیے اپنی بندرگاہ اور ہوائی اڈے بھی بند کر رہا ہے اور یہ فیصلہ قومی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے قطری سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔ ابو ظہبی حکومت نے قطر پر دہشت گرد، انتہا پسند اور مسلکی تنظیموں کی حمایت کا الزام لگایا۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے قطر کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام لگایا کہ قطری حکومت کے یمن کے دشمنوں کے ساتھ رابطے ہیں۔ یمن کی سرکاری ایجنسی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ قطر کے حوثیوں باغیوں کے ساتھ تعلقات اور انتہا پسند تنظیموں کی مدد کھل کر سامنے آگئی ہے۔ یمن حوثیوں باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے فوجی اتحاد سے قطر کو خارج کرنے کے فیصلے کی تائید کرتا ہے۔

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی زیر قیادت فوجی اتحاد نے بھی قطر کی رکنیت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قطر یمن میں دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہا ہے۔

لیبیا کے مشرقی علاقوں میں قائم حکومت نے بھی قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں، اگرچہ اس حکومت کی ملک کے بہت تھوڑے علاقوں میں عمل داری ہے۔ مالدیپ کی وزارت خارجہ نے قطر سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اس پیش رفت کے نتیجے میں خلیج تعاون کونسل میں اب اومان واحد ملک رہ گیا ہے جس کے قطر کے ساتھ تعلقات برقرار ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان ایران کے مسئلے پر کافی عرصے سے کشیدگی جاری تھی۔ گزشتہ ماہ منعقد ہونے والی انسداد دہشت گردی عرب اسلامی کانفرنس کے بعد قطری سرکاری پریس ایجنسی سے امیر قطر تمیم بن حماد کا بیان جاری ہوا جس میں انہوں نے ایران کی تعریف اور تہران سے متعلق امریکی پالیسی پر تنقید کی تھی۔ اس پر سعودی اور عرب میڈیا شدید میں ردعمل سامنے آیا۔ ان چینلز میں مباحثے ہوئے جن میں قطر کو دھوکے بازی پر برا بھلا کہا گیا۔

بعدازاں قطری ایجنسی نے امیر کے بیان کو واپس لیتے ہوئے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ویب سائٹ کو ہیک کرلیا گیا تھا جس کی وجہ سے یہ غلط بیان جاری ہوگیا۔ تاہم عرب میڈیا نے اس وضاحت کو محض بہانے بازی قرار دیا۔

مارچ 2014 میں بھی قطر اور دیگر عرب ممالک کے درمیان اس لیے کشیدگی پیدا ہوگئی تھی کہ قطر مبینہ طور پر اخوان المسلمون کی حمایت کررہا تھا۔ اس مسئلے پر کئی عرب ممالک نے قطر سے اپنے سفیر بھی واپس بلا لیے تھے۔

قطر نے سعودی عرب سمیت 5 عرب ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کو بلاجواز اور غیر منصفانہ قرار دیا۔

قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب، مصر، یمن، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بے بنیاد الزامات لگا کر تعلقات ختم کیے اور اس اقدام کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ قطر نے کہا کہ تعلقات ختم کرنے کا یہ فیصلہ اس کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے، تاہم اس سے اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے معمولات زندگی متاثر نہیں ہوں گے۔

قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ہم پر اپنی مرضی کی پالیسیاں مسلط کرنا ہے، جو بطور ریاست قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔

جواب دیجئے

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!