..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

عورت کی جوانی کا سنگھار اور بڑھاپے کا نور؟

منصور مہدی
"حیا دار خاتون سدا جوان رہتی ہے اور بڑھاپے میں بھی اس کے چہرے سے نور جھلکتا رہتا ہے”۔ جب میں نے یہ فقرہ ایک مضمون میں پڑھا جس کے مطابق یہ الفاظ عظیم مسلمان مفکر جابر بن حیان نے کہے تھے ۔ جن کو نہ صرف اسلامی بلکہ انسانی دنیا ئے تاریخ کا سب سے پہلا کیمیا دان کہا جاتا ہے، جنھوں نے سائنسی نظریات کو دینی عقائد کی طرح اپنایا۔ دنیا آج تک انھیں بابائے کیمیا کے نام سے جانتی ہے۔انھوں نے نہ صرف کیمیاءبلکہ علم طبیعیات، علم الادویہ، علم الہیت میں تحقیق کی اور معاشرے کی ہیت کو بھی باریک بینی سے پرکھا۔جابر بن حیان نے امام جعفر الصادق علیہ السلام اور الحمیاری جیسے معلمین سے استفادہ اور علم حاصل کیا تھا۔ چنانچہ جب میں نے درج بالا الفاظ جو ان سے منسوب تھے پڑھے تو مجھے ان کی سچائی پر تو کوئی شک نہ ہوا مگر میں ان الفاظ کو سمجھ نہ سکا کہ کیسے بڑھاپے میں عورت جوان رہ سکتی ہے اور اس کے چہرے پر نور برس سکتا ہے۔

پھر جابر بن حیان نے یہ الفاظ کسی خاص خطے کی عورت یا کسی خاص مذہب کی پیروکار عورت کے حوالے سے بھی نہیں کہے تھے بلکہ ان کا عورت سے مراد کوئی بھی ایسی عورت ہے جو کسی بھی خاندان، قبیلے، خطے یا مذہب سے تعلق رکھتی ہو مگر اس نے ساری زندگی حیا اور پاکیزگی میں گزاری ہو،یا جس نے حیا کو اپنا زیور بنایا۔ دوسرے الفاظ میں جابر بن حیان نے دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھنے والی عورت کے لیے سدا جوان رہنے کا نسخہ تشخیص کر دیاتھا کہ جو عورت خود کو ہمیشہ حسین اور خوبصورت رکھنا چاہتی ہے تو اسے کسی میک اپ یا دیگر چیزوں کی ضرورت نہیں بلکہ وہ صرف حیاءکو اپنا زیور بنا لے۔

ابھی چند روز قبل جب میں نے برازیل کے شہر ساﺅ پالو میں ہونے والے ایک منفرد مقابلہ حسن کی خبر پڑھی تو مجھے جابر بن حیان کے درج بالا الفاظ یاد آگئے۔ساﺅ پالو میں ہونے والے ایک مقابلہ حسن میںایک 65سالہ خاتون نے حسین عورت ہونے کا اعزاز حاصل کیا ۔اس مقابلے میں 60سال سے لے کر 87سال تک کی خواتین نے حصہ لیا تھا۔ اور مقابلے میں 200کے قریب خواتین نے شرکت کی تھی۔ یہ مقابلہ دیگر مقابل حسن سے یکسر مختلف تھا۔ اس مقابلے میں خواتین کی جسمانی ساخت اور خوبصورتی کو بنیاد نہیں بنایا گیا تھا بلکہ اس مقابلے میں شریک خواتین کو ان کی مسکراہٹ اور حیاءکی بنیادوں پرانتخاب کیاگیا اور قرعہ ایک 65سالہ خاتون کے نام نکلا۔

جابر بن حیان کی درج بالا بات کچھ کچھ سمجھ میں آئی مگر تشنگی قائم رہی۔ جب اس حوالے سے مزید تحقیق کی تو پتہ چلا کہ واقعی جابر بن حیان نے جو بات تقریباً 1200 برس قبل کہی تھی وہ سچ ہے ، کہ حیاءہی ایک ایسی کنجی ہے جو عورت کے حسن اور جوانی کو محفوظ رکھتی ہے اور اس کے چہرے کی تازگی اور شباب کو قائم رکھتی ہے۔

اگرچہ عام طور پر خواتین کے بڑھاپے کے بارے میں پایا جانے والا تاثر ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کے بڑھاپے کی عمر سے متعلق پایا جانے والا تاثر ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، بلکہ عورت کے حسن اور بڑھاپے کی عمر کے بارے میں ہر خطے ، ہر قوم اور ہر دور میں لوگوں کی رائے مختلف ہوتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق "عورت کی اصل زندگی 40 سال کی عمر کے بعد شروع ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اسی عمر میں جوانی سے بڑھاپے کی طرف بھی چل پڑتی ہے۔برطانیہ میں کی گئی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 40 سال اور 8 ماہ وہ عمر ہے جب برطانوی خواتینخود کو جوان کہنا بند کر دیتی ہیں اور 59 سال 2 ماہ کی عمر میں وہ خود کو بوڑھا کہنا شروع کر دیتی ہیں۔اس تحقیق میں171 ،2 مرد اور خواتین کو شامل کیا گیا تھا۔جن کی عمریں 16سے 80برس کی تھیں۔یہ سروے ایک سوال پر مشتمل تھا جس میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں مرد اور عورت کے بڑھاپے کی صحیح عمر کون سی ہوتی ہے ؟ سروے میں شامل مرد اور خواتین نے بڑھاپے کی صحیح عمر سے متعلق متضاد رائے کا اظہارکیا۔ خصوصاً خواتین کی رائے مردوں کی سے یکسر مختلف پائی گئی”۔
” مردوں کا عام خیال تھا کہ 38 سال اور 6 ماہ کی عمر میں انھوں نے اپنے آپ کو جوان کہنا بند کر دیا تھا۔اس کے برخلاف، خواتین سمجھتی ہیں کہ 42 سال اور 9 ماہ وہ عمر ہے جب انھوں نے خود کو جوان سمجھنا بند کر دیا تھا۔

Related image
خواتین کے نزدیک بڑھاپا 60 سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے اور مردوں کی رائے میں یہ 58 برس کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔ خواتین اور مردوں کی رائے کا مختلف ہونا اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ مرد خود کو جلد بوڑھا محسوس کرنے لگتا ہے۔ جبکہ دیکھا گیا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ عمر تک زندہ رہتی ہیں۔اس سروے کا حصہ بننے والے ایسے شرکا جن کی عمریں 50 سال کے قریب تھیں ان کی رائے میں 46 سال کی عمر سے ادھیڑپن کی عمر کا آغاز ہوجاتا ہے۔اس کے برعکس 50 برس سے زائد عمر کے لوگوں کے مطابق 62 سال کی عمر سے بڑھاپے کا آغاز ہونا شروع ہو تا ہے”۔
تاہم” اس سروے میں شریک 16سال سے 24 سال کے نوجوان مرد و خواتین کی رائے ان تمام لوگوں کے برعکس نکلی۔ان نوجوانوں کے مطابق 32 سال کی عمر میں جوانی کی سرحد پار کر لی جاتی ہے اور بڑھاپے کا آغاز 45برس سے شروع ہوجاتا ہے۔ اسی سوال کا جواب 80 سال سے زائد عمر کے افراد نے یہ دیا کہ جوانی55برس تک قائم رہتی ہے”۔
اس سروے میں شریک مغربی ممالک اور مشرقی ممالک کی خواتین کے جوابات بھی یکسر مختلف تھے۔ "مغربی معاشرے کی حامل خواتین نے بھی اس سوال کے جواب میں کہا کہ عورت کا حسن اور جوانی 30برس تک قائم رہتی ہے ، جس کے بعد وہ بڑھاپے کی جانب چل پڑتی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی معاشرے کی حامل خواتین نے عورت کے حسن اور جوانی کی عمر 50برس تک بتلائی ہے”۔

تحقیق دانوں نے اس سروے جو نتائج اخذ کیے ان کے مطابق جوانی قائم رہنے اور بڑھاپے کے آغاز کے بارے میں لوگوں کے درمیان یہ جو اختلاف دیکھنے میں آیا، اس کی درج ذیل وجوہات تھیں۔
٭    عمر اور جنس کا تضاد اختلاف رائے کا باعث ہے۔
٭     لوگوں کا معیار زندگی اور ان کی آمدنی کا فرق بھی جوانی اور بڑھاپے کی عمروں کے تعین پر پر اثر انداز ہوتا ہے۔
٭     بے روزگار افراد اور برسر روزگار افراد کا اختلاف بھی روزگاری اور بے روزگاری کی وجہ سے ہے۔بے روزگار افراد ملازمت پیشہ افراد کی نسبت 10سے15برس قبل ہی بوڑھے ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں بے روزگار افراد اپنی اصل عمر سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔
¿٭    اسی طرح کرایہ کے گھروں میں رہنے والوں کا بوڑھاپا اپنے ذاتی مکانوں میں رہنے والوں کی نسبت جلد شروع ہوجاتا ہے۔
٭    اس سروے میں جو سب سے اہم بات تحقیق دانوں نے اخذ کی کہ وہ خواتین جو کسی وجہ سے اپنی عزت و عصمت کی حفاظت نہ کرسکیں اور انھوں نے بے حیائی سے بھرپور زندگی بسر کی ، ان کی نسبت وہ خواتین جنھوں نے عصمت و عفت کی حفاظت کی اور حیاءاور پاکیزگی سے بھرپور زندگی گزاری ، ان کی رائے یکسر ایک دوسرے سے مختلف رہی۔

مفکرین کا کہنا ہے کہ "اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑے احسن طریقے پر پیدا کیا ہے۔ اس کے اندر ایسی گونا گوں خاصیتیں پوشیدہ کر دی گئیں ہیں، کہ جو نسان کی شخصیت کو نیرنگی بھی عطا کرتی ہے اور اسے پیچیدہ بھی بنا تی ہے۔ انسان کی مثال ایک عالمِ صغیر کی سی ہے۔ کہ جس میں ایک پورا جہاں آباد ہے۔یہ ایک ایسا عالم ہے کہ جس کا صحیح ادراک خودانسان کو بھی نہیں ہے”۔
مفکرین کے نزدیک انسان کی شخصیت کی تعمیر میں تین چیزیں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔اول وہ جینیاتی مادے جو والدین کی طرف سے انسان کو ملتے ہیں۔ دوسرے وہ ماحول جس میں اس کی پرورش ہوتی ہے اور تیسرے اس تعلیم وتربیت، جو اسے والدین ، اساتذہ اور معاشرے کے ذریعہ ملتی ہے۔ ان کے علاوہ اخلاقی، معاشی، روحانی، معاشرتی ، جسمانی اور جذباتی رویے بھی انسانی زندگی پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ہی انسانی زندگی میں توازن پیدا کرتی ہیں۔ اگر ان میں توازن قائم نہ رہے تو زندگی میں بھی توازن قائم نہیں ہوتا”۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ” ہر انسان خواہ عورت ہو یا مرد اس کے اندر ایسے مادے یا ہارمونز ہوتے ہیں کہ جو اس کی کی جسمانی ساخت کو متوازن بناتے ہیں۔ ان ہارمونز کی کمی بیشی انسانی زندگی پر اثر باقاعدہ اثر انداز ہوتی ہے”۔طبی ماہرین کے مطابق عورت کے ہارمونز جو اس کی جسمانی ساخت اور بناوٹ ( جوان اور بوڑھاپے) کو کنٹرول کرتے ہیں اگر وہ قبل از وقت اور بہت زیادہ استعمال ہونے لگے تو عورت کا حسن گہنانا شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں عورت کا جلد بوڑھاپا ایک طرح سے ہارمونز کے قدرتی توازن کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ خوبصورتی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب ہارمونز میںتوازن قائم کرے۔ اگرچہ اس حوالے سے ایک غیر متوازن زندگی میں لذت کو بظاہر بہت محسوس ہوتی ہے مگر دائمی طور پر یہ ایک انتہائی نقصان دہ چیز ہے۔ جس سے عورت جلد ہی بوڑھی ہو جاتی ہے اور اپنی کشش کھو دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام بھی حیاءکو عورت کا زیور قرار دیتا ہے۔ اور جس کی تصدیق آج کی سائنس کر رہی ہے وہ بات جابر بن حیان نے ایک عرصہ پہلے کہہ دی تھی۔

جواب دیجئے

x

Check Also

خواتین ہر معاملے میں احساس کمتری کا شکار نظر آئیں گی

منصور مہدی معروف ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا کہتی ہیں کہ معاشرے میں جدھر میں ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!