..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

خواتین کیساتھ بازاروں میں خریداری پر مردوں کو شکایت

منصور مہدی ۔۔۔۔
آپ بازار تو اکثرجاتے ہو ںگے، وہاں اس بات کا مشاہدہ بھی کیا ہو گا کہ بازار میں آئے ہوئے جوڑوں اور فیملیوں میں خواتین تو بہت ہنسی خوشی خریداری میں مصروف ہوتی ہیں مگر ان کے ساتھ آئے ہوئے مرد بور سے نظر آتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے انھیں زبردستی کھینچ کر بازار لایا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ ان مردوں میں سے بیشتر ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں واقعی ان کی مائیں، بہنیں اور بیویاں زبردستی بازارلیکر آتی ہیں۔ وہ خود سے نہیں آنا چاہتے مگر مجبوراً انھیں آنا پڑتاہے۔

اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ آخر مردوں کو خواتین کے ساتھ بازار آنے میں اتنی کوفت کیوں ہوتی ہے کہ جو ان کے چہرے سے ہی جھلکنے لگتی ہے۔ یا پھر خواتین ہی کیوں مردوں کو ساتھ لے جانے پر مضر ہوتی ہیں۔ خواتین کی بات تو سمجھ میں آتی ہے، کہ کچھ خواتین اکیلے بازار جانے سے ڈرتی ہیں۔ مگر مردوں کو کیا شکایت ہے؟

اس حوالے سے حال ہی میں کیے گئے ایک سروے میں71فیصد مردوں نے کہا کہ انھیں خواتین کے ساتھ بازار جانا بہت ہی برا لگتا ہے کیونکہ دوران شاپنگ ایک تو ان کے مشورے کو خواتین کوئی اہمیت نہیں دیتی اور دوسرے شاپنگ کے لیے ایک سے دوسری دکان اور ایک مارکیٹ سے دوسری مارکیٹ جانے کے دوران سارا سامان انھیں ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ کیونکہ خواتین مردوں کو اپنے ساتھ بازار اس لیے نہیں لے جاتی کہ وہ دوران خریداری مردوں سے مشورہ کریں گی اور ان کی پسند اور نا پسند کا خیال رکھیں گی۔ بلکہ مردوں کو وہ بازار اسی لیے ساتھ لے کر جاتی ہیں کہ دوران خریداری سامان اٹھانے والا مل جاتا ہے۔

ان مردوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیونکہ مرد اور خواتین کی سوچ میں فرق ہوتا ہے اور یہی فرق خریداری میں نظر آتا ہے۔ لہذا مرد خواتین کے ساتھ بازار جانے سے احتراز کرتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ شاپنگ میں سب سے زیادہ پریشانی ان شوہروں کو ہوتی ہے کہ جن کی بیویاں شاپنگ میں مصروف ہوتی ہیں اور وہ ایک بچے کو گود میں اٹھائے اور دوسرے کا ہاتھ پکڑے دکان سے باہر بیوی کے آنے کے انتظار میں کھڑا ہوتا ہے ۔ مگر انتظار کرنے کے بعد جب یہ پتا چلتا ہے کہ چیزیں پسند ہی نہیں آئیں اور اب بیگم صاحبہ کو کسی اور دکان میں جانا ہوگا۔

اس سروے کے مطابق 18فیصد مردوں کا کہنا تھا کہ ان کی بوریت کا دارومدار اس پر ہوتا ہے کہ وہ کس کے ساتھ اور کب شاپنگ پر جا رہے ہےں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی نویلی بیوی یا نئی نویلی محبوبہ کے ساتھ شاپنگ کرنے میں مزا آتا ہے کیونکہ وہ ہماری پسند کو ہی ترجیح دیتی ہیں اور ان کی طرف سے سوائے پسندیدگی کے اور کچھ نہیں کہا جاتا۔ جبکہ پرانی بیوی اور پرانی محبوبہ دوران شاپنگ نہ صرف مردوں کی پسند میں کیل میخ نکالتی ہیں بلکہ جیبیں بھی خالی کروا لیتی ہیں۔تاہم صرف 11فیصد مردوں نے خواتین کے ساتھ شاپنگ کرنے کو خوشگوار قرار دیا ہے۔

اس سروے میں میں کچھ مردوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین کے ساتھ شاپنگ کے دوران مردوں کو کوفت اس لیے بھی ہوتی ہے کہ خواتین خریداری کے دوران وقت بہت ضائع کرتی ہیں۔ ایک عام سے چیز کی خریداری پر بعض اوقات کئی کئی گھنٹے صرف کر دینا خواتین کا محبوب مشغلہ ہے جسے مرد افورڈ نہیں کرتے۔

جیسا کہ ایک اور سروے کے مطابق خواتین صرف خریداری پر اپنی زندگی کے 8سال خرچ کر دیتی ہیں۔ برطانیہ میں کیے جانے والے اس تازہ ترین جائزے سے معلوم ہو اہے کہ خواتین اپنی پوری زندگی میں آٹھ سال سے زیادہ عرصہ صرف خریداری پر صرف کرتی ہیں، یعنی اوسطاً ایک خاتون اپنی63 سال کی عمر میں حیرت انگیز طور پر 25184 گھنٹے اور53 منٹیعنی 3148 دن خریداری پر صرف کرتی ہیں۔ اس سروے کے مطابق عورت سال بھر کے دوران اوسطاً 301 مرتبہ خریداری کے لیے جاتی ہیں ۔

مردوں کا کہنا ہے کہ جب عورت سال کے 365دنوں میں سے 301دن شاپنگ کے لیے جاتی ہے تو مردوں کے پاس تو اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ خواتین کے ساتھ روزانہ ہی بازار جائے۔ دوسری طرف خواتین بار بار بازار جانے کے حوالے سے کہتی ہیں کہ انہیں اس لیے شاپنگ پرزیادہ وقت صرف کرنا پڑتاہے کہ گھروں کے مرد اس کام میں دلچسپی نہیں لیتے۔ وہ باقاعدگی سے خریداری کےلیے بازارنہیں جاتے وہ لباس نہیں خریدے۔جب کہ خواتین ہی ان کےلیے خریداری کرتی ہیں اور جب ان کو وہ چیز پسند نہیں آتی تو اسے واپس کرنے بھی جاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں خریداری میں اس لیے بھی زیادہ وقت لگتا ہے کہ دکاندار چند ہفتوں کے بعد دکان کی اشیاءکی جگہیں تبدیل کر دیتے ہیں اور اس لیے انہیں اپنی پسند کی چیز ڈھونڈھنے میں کافی وقت لگ جاتاہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اب شاپنگ کے انداز بھی بدل رہے ہیں۔جہاں شہریوں کے طرز زندگی میں تبدیلی آ رہی ہے ، وہاں لائف اسٹائل میں بھی جدت آ گئی۔اب دکانوں سے جاکر اشیائے ضرورت خریدنا اور ہر چیز کے لیے مختلف دکانوں پر جا کر خریداری کا طرز انداز ختم ہوتا جا رہا ہے ۔دکانوں کی بجائے اب چین اسٹورز اور بڑے بڑے شاپنگ پلازہ بہت مقبول ہو رہے ہیں۔ جہاں ایک ہی چھت کے نیچے، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کاسمیٹک، کھلونے، جیولری، کٹلری گوکہ ضرورت زندگی کی ہر اشیاء فروخت کے لیے موجود ہوتی ہیں۔

ایسے شاپنگ پلازوں سے شوہروں کو یہ سہولت مل گئی ہے کہ یہاں پر بچوں کو بہلانے کے لیے کئی اشیاءموجود ہوتی ہیں اور شاپنگ کے دوران زیادہ بوریت نہیں ہوتی۔
بازاروں میں خواتین سے متعلق اشیاءکی فراوانی نے شاپنگ میں خواتین کی دلچسپی کو اور بڑھا دیا ہے۔ اب دنیا بھر کے بازاروں میں خواتین کے ملبوسات، جوتے، آنکھوں کے چشمے اور لینز، جیولری کی مصنوعات، بیگ، جلد کی حفاظت کی کریمیں اور دیگر کاسمیٹکس کے سامان کی لاتعداد ورائٹی دستیاب ہے۔ اس کے مقابلے میں مردوں کے حوالے سے سامان کی ورائٹی بہت ہی کم ہے۔چنانچہ دنیا بھر میںخواتین کی شاپنگ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے ۔ جبکہ مردوں کی دلچسپی اسی وجہ سے کم بھی ہو رہی ہے ۔

سی طرح آن لائن شاپنگ سے جہاں خواتین کو یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ چاہے تو گھنٹوں ایک ہی چیز کو پسند کرنے پر خرچ کر سکتی ہیں اور گھر پر بیٹھے ہی ملک بھر کے سٹوروں کو کھنگال سکتی ہیں۔ وہاں مردوں کو بھی اب بازار جانے کی کوفت سے نجات ملے گی۔

کیونکہ اب پاکستان میں بھی ایسے آن لائن سٹور بن چکے ہیں جو مختلف اشیاءکی تفصیل فراہم کرتے ہیں، پھر آرڈر لیتے اور مطلوبہ چیز گھر تک پہنچا دیتے ہیں۔ان آن لائن شاپنگ سٹوروں میں موبائل فون، گھڑیاں، کیمرے اور دیگر الیکٹرونکس آلات ، ملبوسات اور زیوارات کی وسیع ورائٹی دستیاب ہوتی ہے۔

لیکن ایسی خواتین کی بھی کمی نہیں جو آن لائن شاپنگ کو بالکل پسند نہیں کرتی۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کی سکرین پر اگرچہ مطلوبہ اشیاءکے رنگ اور ورائٹی وغیرہ کا پتا چل جاتا ہے لیکن کچھ ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں کہ جب تک انھیں چھو کر نہ دیکھا جائے، تسلی نہیں ہوتی۔ ایسی خواتین آن لائن خریداری کی بجائے بازار جانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان خواتین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مارکیٹ سے ملبوسات سے میچنگ کرتی ہوئی جیولری، بیگز اور جوتے با آسانی مل جاتے ہیں جبکہ آن لائن پر میچنگ چیزیں ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

مردوں خصوصاًشوہروں کے حوالے ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپنی بیوی کو نظر انداز کرنے کی حماقت کبھی نہ کریں ورنہ اس کی قیمت مہنگی ترین مصنوعات کی خریداری کی صورت میں چکانا ہو گی۔ یہ دلچسپ دعویٰ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں کیا گیا ہے ۔ تحقیق کے مطابق جب بھی خواتین کو کسی جانب سے نظر انداز کیے جانے کا احساس ہوتا ہے تو وہ اپنی مایوسی کا علاج مہنگی سے مہنگی مصنوعات خرید کر کرتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مایوس خواتین اپنے وسائل کے مطابق اعلیٰ ترین مصنوعات خرید کر ایک بار پھر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم اگر خواتین کو خاندان کی جانب سے نظر انداز کیا جائے تو ان کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔

مردوں کو ساتھ لیکر جانے والی خواتین کے لیے ایک یہ مشورہ ہے کہ وہ دوران خریداری مرد کو تنہا نہ چھوڑیں اور زیادہ نہیں تو کچھ ہی اشیاءکی خریداری میں مردوں کی پسند کا بھی خیال رکھیں اور کوشش کریں کہ جتنی جلدی ہو سکے خریداری کر لیا کریں۔ اس سے آپ بھی خوش اور مرد بھی خوش۔۔۔

جواب دیجئے

x

Check Also

خواتین ہر معاملے میں احساس کمتری کا شکار نظر آئیں گی

منصور مہدی معروف ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا کہتی ہیں کہ معاشرے میں جدھر میں ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!