..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

” شجر ممنوعہ کے تین پتے” اور” خوشبو ہے تو بکھر جائے گی”

منصور مہدی
سیمیں کرن ادبی دنیا میں جانا پہچانا نام ہیں۔ وہ افسانے اور ناول دونوں اس اسلوب سے تحریر کرتی ہیں کہ آج انگلیوں پر گنے جانے والے گنتی کے افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں ان کا شمار ہوتا ہے ، ہر دو تحریروںپر مہارت رکھنا بہت مشکل مگر شاید آسان بھی ہے، آسان اس لیے ہے کہ آپ کو ہر طرف بے شمار افسانہ اور ناول نگار نظر آتے ہیں مگر مشکل اس وقت ہو جاتی ہے جب اتنی بڑی تعداد میں لکھنے والوں میں اپنا ایک الگ تشخص اور قد وقامت قائم کیا جائے ، لیکن” شجر ممنوعہ کے تین پتے” اور” خوشبو ہے تو بکھر جائے گی” پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیمیں کر ن دونوں اسلوب نہ صرف کامیابی ہوئی ہے بلکہ وہ بہت آگے نظر آتی ہیں۔
سیمیں کرن صوبہ خیبر پختونخوا میں پیدا ہوئی اور ان کے بچپن کے ابتدائی ایام تربیلہ ڈیم کے خوبصورت علاقے میں گزرے، ان کے والد واپڈا میں تربیلہ ڈیم میں سینٹر ریسرچ آفیسر تھے،بنیادی طور پر وہ ایک الیکٹریکل انجینئر تھے،مگر اک دانشور، سکالر اور کتابی آدمی بھی تھے، سیمیں کرن کا کہنا ہے کہ انھوں نے سوچنا، بولنا ، مکالمہ نگاری اپنے باپ سے لی، وہ ایک وسیع المطالعہ آدمی تھے، مذہب، سیاست، ادب، کوئی گوشہ ایسا نہیں تھا جس پر ان سے بات نہ کی جا سکے، وہ عالی لدھیانوی کے نام سے چاند میں لکھا کرتے تھے، لکھنے پڑھنے کے جراثیم سیمیں کرن کو وہیں سے ملے۔
سیمیں کی والدہ ایک ذہین ، محبت کرنے والی اور بہت ہمت والی خاتون تھیں، گھر کے تمام امور انہیں کے ہاتھ میں تھے، سیمیں کرن کا کہنا ہے کہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جس کا حل ان کی والدہ کے پاس نہ ہو، سیمیں کرن کی تربیت میں ماں اور باپ کا عمل دخل بہت زیادہ تھا، ان دونوں کی شخصیت نے سیمیں کرنپر گہرے اثرات چھوڑے۔
سیمیں کرن اپنے بچپن کی یادیں بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگرچہ میرا بچپن بھی دیگر بچوں کی ہی طرح گزرا مگر تربیلا میں کھیل کود، پہاڑوں پر چڑھنا، بیرویوں سے بیر توڑنا، گھر کے امرود کے پیڑ پر چڑھ کر بچوں کی کہانیاں پڑھنا انھیں اب بھی یاد ہے، گھر میں لگے جھولے میں بیٹھ کر خود سے باتیں کرنااور چھوٹے بھائی کیساتھ کھیلنا بہت پسند تھا ، مختلف رسائل اور کتابیںانھوں نے نو سال کی عمر میں ہی پڑھنے شروع کر دیے تھے، اور پھرذہن میں آنے والے سوالوں کو لیکر ڈیڈی کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنا بہت اچھا لگتا تھا، کیا، کیوں سے بچپن میں بہت دوستی تھی۔
تربیلا ڈیم کے بعد والد کافیصل آباد میں تبادلہ ہو گیا اور پھر لاہور شفٹہو گئے، لاہور میں ہی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی، گلبرگ کالج لاہور سے فائن آرٹس میں کیا اور پنجاب یونیورسٹی لاءکالج سے لاءگریجویشن کیا ، اسی دوران ایم اے کے پیپرز دیے، کہ شادی ہو گئی جس کا رزلٹ شادی کے بعد آیا۔
دوران تعلیم والدہ اور تعلیم مکمل ہوتے ہی والد انتقال ہو گیا،ان دونوں ہستیوں کے اچانک چلے جانازندگی کا ایک ایسا حادثہ تھا، جس نے سیمیں کرن کی زندگی کے تمام رخ ہی بدل دیے، اشک بار آنکھوں سے انھوں نے بتایا کہ امی اور ابو کی وفات سے اس بات پر ایمان بھی آیا کہ انسان اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے رب کو پہنچاتا ہے۔سیمیں کرن کہتی ہیں کہ امی اور ابو ہی میرے قریب تھے، ننھیال، ددھیال نہیں ملا والدین کی جلدی وفات ہی زندگی کا وہ خلا تھا جو کبھی پر نہیں ہو سکا، کیونکہ ذہنی طور پر میں ان سے ہی قریب تھی، کسی بہن بھائی سے وہ دوستی نہیں بن سکی جو امی ابو سے تھی۔
دوران تعلیم اور شادی کے بعد جب کبھی وقت ملتا تو کوئی اچھی کتاب پڑھنا ہی ان کا واحد مشغلہ تھا اور ہے،، میوزک سننا، پینٹنگ کرنا، بھی انھیں اچھا لگتا ہے، لڑکیوں کو گھر گرہستی سے متعلق آنے والے تمام ہنر بھی انھیں آتے ہیں،اچھے کھانے پکانا اور اپنے لباس کا ڈیزائن کرنا اچھا انھیں لگتاہے۔
تین بچوں کی ماںسیمیں کرن کا کہنا ہے کہ نوعمری سے ہی میں لکھنا شروع کر دیا تھا، بچپن میں کچھ نظمیں لکھیں، خطوط لکھنا اور باقاعدگی سے ڈائری لکھنا میری عادت تھی مگراس وقت یہ نہیںسوچا تھا کہ بطور لکھاری میری شناخت ہو گی، شادی کے بعد جب میں نے باقاعدگی سے لکھنا شروع کیا اور میری تحریریں شائع ہوناشروع ہوئیں تو میں نے اسے سنجیدگی سے لیا، اب تولکھنا اور پڑھنا ہی میری ذات کا اظہار ہے۔
فراغت کا تمام وقت لکھنے اور پڑھنے کیلئے ہوتا ہے، میری فائل، کتابیں، قلم میز پر لاﺅنج پر دھرے رہتے ہیں، کام سے فارغ ہو کر جونہی وقت ملتا ہے کچھ لکھ لیا کرتی ہوں، وہ کہتی ہیں کہ زندگی کے بہت سے احساسات، لمحات اور دکھ ہوتے ہیں جو ہمیشہ آپکے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، زندگی میں بہت سے اتار چڑھاﺅ آئے، بسا اوقات زندگیبہت مشکل بھی ہوئی ،مگر اپنے والدین کی دی ہوئی تربیت اور اعتماد اور اپنے رب سے خود کلامی ہی ہمیشہ میرے زاد راہ رہے۔
سیمیں کرن کا کہنا ہے کہ انھیںنک نیم تو بہت سے ملے مگر انھیں نوشی کے نام سے پکارا جانا اچھا لگتاہے، پسندیدہ کتابوں کے بارے میں کہنا ہے کہ کتابیں تو بہت ہی زیادہ پسند ہیں، کس کس کا نام بتاﺅں، اب تک کیا کچھ پڑھ چکی، یاد نہیں، تا ہم منٹو صاحب، عصمت چغتائی، کرشن چندر، ممتاز مفتی، قراة العین حیدر، کلاسکس میں بہت پسند ہیں، بانو قدسیہ کا راجہ گدھ، الطاف فاطمہ کا دستک نہ دو، اور عہد حاضر میں تو کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے، تارڑ صاحب، مشرف عالم ذوقی ناول کے بڑے نام ہیں، مشرف عالم زوقی، مبین مرزا، حمید شاہد، خالدہ حسین، زاہدہ حنا، سلمیٰ اعوان نے بہت مجھے متاثر کیا، علامہ ضیا حسین ضیا اور ڈاکٹر وحید احمد کے ناول بھی میرے پسندیدہ ہیں، غیر ملکی تراجم میں ٹالساٹی، ایلف شفق اور مارکیز نے بہت متاثز کیا۔مشرف عالم ذوقی اور علامہ ضیا حسین ضیا کو اپنے اساتذہ کا درجہ دیتی ہوں، ان کی فکر اور سوچ نے مجھے متاثر کیا۔
موسیقی سننا بھی اچھا لگتا ہے،پرانے گانے لتا، رفیع اور نورجہاں کے پسند ہیں، غزلیں بہت اچھی لھتی ہیں، غزلوں میں جگجیت سنگھ، منی بیگم، نیرہ نور، ناہید اخترپسند ہیں، ریشماں کو سننابہت ہی اچھا لگتا ہے،سیمیں کرن سے جب ان کی پسندیدہ خوشبو کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ انھوں نے کبھی خوشبو نہیں لگائی، کیوں نہیں لگائی تو ان کا کہنا تھا ، خوشبو اپنا سراغ چھوڑ دیتی ہے جبکہ مجھے سراغ چھوڑنا اچھا نہیں لگتا۔
فلمیں بھی دیکھتی ہوں ، حالیہ فلموں میں” پی کے” اور” ستارے زمین پر” بہت اچھی اور پسندیدہ فلمیں ہیں،جب ان سے پوچھا کہ لوگ آپ کو کیسا دیکھتے ہیں، تو سیمیں پہلے تو ہلکا سے مسکرائی اور گویا ہوئیں کہ مختلف لوگ ہمیں اپنی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہم اس سوال کا حتمی جواب نہیں دے سکتے، اصرار کرنے پر کہا کہ بہرحال یہ کثرت سے سننے کو ملا کہ میں ایک جینوئن لکھاری ہوں۔
اپنی تحریروں کے حوالے سے انھوں نے بتایا ان کے تنقیدی مضامین افسانوی مجموعے پہ مکالمہ کراچی ، الذبیر بہاول پور ، سہ ماہی شعرو سخن ، سہ ماہی فن زاد ، سہ ماہی آبشار ، روزنامہ نئی بات میں گل نوخیز اختر کا تنقیدی کالم، ناول پہ دی نیوز میں زیب اذکار حسین کا کالم اور رفیع اللہ میاں کا ایکسپریس میں تنقیدی کالم لگ چکے ہے۔ کتب پر تبصرے اور حالات حاضرہ پر میرے تحریر کردہ مضامین بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔ دو کتب افسانوی مجموعہ "شجر ممنوعہ کے تین پتے” اور "ناول خوشبو ہے تو بکھر جائے گی” شائع ہو چکے ہیں جبکہ ایک افسانو ی مجموعہ” بات کہی نہیں گئی” اشاعت کے مراحل میں ہے۔
آخر میں جب ان سے پوچھا کہ اپنی تحریروں میں کون سے تحریر انھیں زیادہ پسند ہیں تو کہنے لگیں کہ اپنی تحریریںاپنے بچوں جیسی ہوتی ہے اور ان میں سے کسی ایک کو چننا بہت مشکل کام ہے۔

جواب دیجئے

x

Check Also

مالی ۔۔۔ باغ کا نگہبان

منصور مہدی بظاہر تو عام آدمی عام ہی ہوتا ہے مگر یہ اپنے کام کے ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!