..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

صلاحیتیں منوانے کےلئے پاکستانی خواتین کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے

ماہر تعلیم، سوشل ایکٹیویسٹ، بزنس ویمن عائشہ مصدق حامد کا انٹرویو

منصور مہدی
موجودہ دور میں خواتین تعلیم حاصل کرکے مردوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں۔ آج کی عورت ایک سیاستدان ہے، ایک استاد ہے تو ایک پائلٹ بھی ہے۔ ایک اچھی گھریلو خاتون ہے تو ایک اچھی بزنس ویمن بھی۔ پاکستان میں ہر شبعبے میں خواتین کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ اپنا کردار مستحکم بنانے کیلئے خواتین کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
عائشہ مصدق احمد بھی ایک ایسی پاکستانی خاتون ہیں جو ایک مضبوط کردار کی مالک باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ آپ ایک ماہر تعلیم، سوشل ایکٹیویسٹ، بزنس ویمن اور اینالسٹ ہیں۔ آپ ”دی امریکن سکول آف انٹرنیشنل اکیڈمکس لاہور“ کی چیئرپرسن ہیں۔ ”آل پاکستان بزنس فورم“ کی جنرل سیکرٹری ہیں۔آپ واحد پاکستانی خاتون ہیں جنہیں ”سپریڈنٹ آف سکول“ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔پاکستان میں پہلا پرائیویٹ سکول کھولنے کا اعزاز بھی عائشہ مصدق کو حاصل ہے اور آپ 20 سال سے ”دی امریکن سکول آف انٹرنیشنل اکیڈمکس لاہور“ چلا رہی ہیں۔
آپ دنیا داری کے ساتھ دین کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہیں، پانچ وقت کی نماز کے ساتھ تہجد بھی باقاعدگی کے ساتھ پڑھتی ہیں۔ وطن سے محبت آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، امریکہ سے تعلیم حاصل کی ، بہت عرصہ امریکہ میں ہی ملازمت کی مگر اپنے وطن کی محبت میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آ گئیں اور یہیں اپنا بزنس شروع کیا۔ تین بچے ہیں، تینوں امریکہ میں پلے بڑھے اور وہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کی مگر انہیں بھی پاکستان میں ہی سیٹل کیا۔ بیٹا جاپان میں سفیر رہ چکا ہے۔ ایک داماد سیاستدان ہے، ایک بیٹی آرکیٹکچر ہے۔
پاکستان کی کامیاب بزنس ویمن، سوشل ایکٹیویسٹ اور ایجوکیشنسٹ عائشہ مصدق حامد نے ”نئی بات“ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھیں فخر ہے کہ وہ اس مقام پر ہیں اور اپنے ملک پاکستان کیلئے کچھ کر رہی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کو ہر شعبے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاتون ہونے کے ناطے مجھے بھی مشکلات کا سامنا رہا۔سکول کھولنے کیلئے بہت پاپڑ بیلنے پڑے، حکومت سے بہت جھگڑے ہوئے، 1996ءمیں پاکستان میں پہلا امریکن پرائیویٹ سکول کھولنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 20 سال سے بڑی کامیابی کے ساتھ سکول چلا رہی ہوں۔ ہمارے بعد دنیا کے دوسرے ممالک کا اس طرف رجحان ہوا اور آج 28 ممالک میں امریکن سکول چل رہے ہیں۔ ہم نے امریکہ کو منوایا کہ پاکستان کے امریکن سکول میں اردو، اسلامیات اور پاکستان سٹڈی کو سلیبس میں شامل کیا جائے۔


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ٹیچرز کی ٹریننگ کا خاص انتظام کرتے ہیں اسی لئے لوگ ہم پر پورا اعتماد کرتے ہےں اور اپنے بچوں کو ہمارے سکول میں داخل کراتے ہیں۔
انہوں نے خواتین کے کام کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ کوئی کچھ نہ کر سکے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ خواتین مردوں سے زیادہ بہتر کام کرسکتی ہیں۔ ہمارے ہاں کا رواج ہے کہ خواتین کیلئے لوگ ہمیشہ دوسرا نظریہ رکھتے ہیں کہ خواتین کو گھرداری تک محدود رکھنا چاہئے مگر ایسا نہیں ہونا چاہئے دوسرے شعبوں کی طرح خواتین کو سیاست کا حصہ بھی بننا چاہئے تاکہ ملک میں اہم مثبت تبدیلیاں رونما ہوں۔
انہوں نے کہا کہ عورت آج سے1400 سال پہلے بھی ایک کامیاب بزنس ویمن تھیں۔ حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ حضرت خدیجہ ؓ تجارت کی ماہر تھیں۔
پاکستانی عورت بہت مضبوط، طاقتور اورصبر کرنے والی ہے، اور جو لوگ بزنس میں آنا چاہتے ہیں انہیں یہ مشورہ دینا چاہوں گی کہ اپنے اندر صبر کا مادہ پیدا کریں کیونکہ بزنس کرنے کیلئے بہت زیادہ صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین جذباتی طور پر مضبوط ہیں اگر ان میں شعور اور تعلیم ہے تو انھیں ان کی صلاحیتوں کو منوانے میں کوئی نہیں روک سکتا۔ پاکستان کے دیہاتوں کی خواتین اس لئے پیچھے ہیں کہ ان کے پاس تعلیم اور انھیں شعورحاصل نہیں۔ مردوں کے معاشرے میں خواتین کو سوچ بدلنے کی ضرورت ہے اگر پاکستان کی خواتین اپنے آپ کے علاوہ مردوں کی برتری کے بارے میں سوچتی ہیں تو انھیں یہ سوچ لے ڈوبے گی اور وہ کچھ نہیں کرپائیں گی خواتین اگر اپنے آپ کو مضبوط بنائیں تب ہی مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ چل سکتی ہیں۔
عائشہ مصدق حامد ایک ایسے ادارے کے ساتھ بھی کام کر رہی ہیں جو نوکری کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے والوں کو کاروبار کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ ایل سی سی آئی کا ”ٹی ڈی ڈی“ نامی یہ اداراہ کس طرح لوگوں کی مدد کرتا ہے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ نے کہا کہ کاروبار کوئی بھی ہو وہ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ منافع تھوڑا رکھا جائے اور اسلامی اصولوں کو اپنایا جائے تو وہ ضرور پھلتا پھولتا ہے۔ ہم نوجوانوں کو ٹریننگ کے دوران کاروبار کے گر سکھاتے ہیں۔ پھر ان کا بزنس پلان سننے اور ایکسپرٹ سے مشاورت کے بعد انہیں نان پرافٹ قرض دیا جاتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت آج کل آن لائن بزنس کرنے کو ترجیح دے رہی ہے، ہم اس میں بھی نوجوانوں کو رہنمائی اور سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ہم نے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو قرض دینے کا ایسا نظام بنا رکھا ہے کہ کوئی بھی پیسے لے کر بھاگ نہیں سکتا۔
اگر ملک میں غربت، مہنگائی، تشدد اورانتہاپسندی بڑھ جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر خواتین پر ہوتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں پاکستان میں خواتین کے حقوق کیلئےقانونی پیش رفت تو بڑھی ہے مگر عملی طور پر شہروں میں رہنے والی مڈل کلاس کو فائدہ ہوا مگر غریب عورتوں کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی ، ان کے مسائل جوں کے توں ہیں معاشرے میں عورت کی تعلیم کی شرح 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ صحت کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے باعث بھی عورتوں کی اموات عام بات بن گئی ہے۔ معاشرے میں ذہنی دباو¿ کے شکار سب سے زیادہ خواتین ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ معیشت کی ترقی میں 70 فیصد کردار عورتوں کا ہے مگر ان کو وہ مقام نہیں مل رہا اور مزدور طبقے میں بھی خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں موجودہ اقتدار میں خواتین کے لئے قوانین تو بن گئے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونا بھی ہمارے ملک کا ایک اہم مسئلہ ہے۔

جواب دیجئے

x

Check Also

مالی ۔۔۔ باغ کا نگہبان

منصور مہدی بظاہر تو عام آدمی عام ہی ہوتا ہے مگر یہ اپنے کام کے ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!