..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

ملکی ترقی میں خواتین بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں

منصور مہدی ۔۔۔۔
کسی بھی ملک کی ترقی میںجہاں مردوں کا ہاتھ ہوتا ہے وہاں خواتین بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف حکومت کاروباری شعبہ سے وابستہ خواتین کے لیے بہترین اور موزوں پالیسیاں تشکیل دے بلکہ ان کے خاندان کے افراد بھی ان خواتین کا ساتھ دیں ۔ اگرچہ پاکستان میں خواتین کے اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور انھیں کسی بھی میدان عمل میں اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا پورے مواقع حاصل ہیں۔ مگر انھیں اپنے خاندانوں اور معاشرے کی طرف سے بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ جو ایک مشرقی اور اسلامی ہے کیا ایسے میں پاکستانی عورت ملکی معیشت میں کوئی اہم کردار ادا کر لے گی ۔اس حوالے سے وہ ماہرین جو اس کی شمولیت کو ناگزیر سمجھتے ہیں کا کہنا ہے کہ خواتین کو نظر انداز کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہے ۔ خواتین کی کاروبار میں شمولیت کسی بھی بحران کے دوران اپنے خاندان اور کاروبار کو نقصان سے بچا سکتی ہیں۔ انکی صلاحیتوں پر شک کرنے کی ضرورت نہیں اور انھیں پر اعتماد بنانا بھی ہماری زمہ داری ہے۔ کاروباروں پر صرف مردوں کی اجارہ داری نہیں ہونی جائیے بلکہ یہ حق خواتین کو بھی ملنا چائیے۔
لیکن دوسری جانب اس کی مخالفت کرنے والوں کے پاس بھی بڑے دلائل ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک تو عورت ویسے بھی صنعف نازک میں شمار ہوتی ہے اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ایک اکیلی عورت یقینا کمزور ہوتی ہے۔خواتین کو کام کرنے کیلئے اپنے خاندانوں سے وہ سپورٹ نہیں ملتی جو کام کرنے کیلئے ضروری ہوتی ہے۔
اپنا کاروبار کرنے کی خواہشمند خواتین کو جس قسم کی رکاوٹیں درپیش آتی ہیں ان میں چند ایک درج ذیل ہیں۔

1۔ فیملی اور خاندان کا کردار
خواتین کے کاروبار اور تخلیقی صلاحیتوں پر فیملی کے کردار کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مختلف قسم کے رُجحانات خواتین کی کاروباری مصروفیات اور کیریئر کے راستے میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں جن میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کی پرورش ہی ابتداءسے اس نقطہ¿ نظر سے کی جاتی ہے کہ اُنھوں نے مستقبل میں ایک اچھی بیوی اور بہو کا کردار نبھانا ہے لہٰذا اُن کو ہر بات پر یہ سکھایا جاتا ہے کہ سسرال میں یوں ہوگا لہٰذا ایسے نہ کرو۔ یا ویسے نہ کرو۔ اسی بنیادی پہلو کی وجہ سے لڑکیوں کے اندر چھپی دوسری انفرادی اور شخصی صلاحیتوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
کوئی لڑکی مستقبل میں کتنی کامیاب بزنس وومن بن سکتی ہے یا لکھاری اور آرٹسٹ ثابت ہو سکتی ہے اس بارے میں فیملی کے افراد توجہ نہیں دیتے۔
تاہم ایسی خواتین بھی ہیں کہ جن کی فیملی کی مدد اور تعاون نے اُن کی کاروباری صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا اور اُن کا ذاتی کاروبار محض اس وجہ سے پھل پھول سکا کہ اس میں والدین یا بھائیوں کیمدد شامل تھی۔
لیکن ایسی خواتین کہ جن کی فیملی کے بیشتر ارکان پہلے سے ہی ذاتی کاروبار کرتے تھے اور اس میں خاندان کے دیگر افراد بھی معاونت کرتے تھے ۔ ایسی خواتین کو اپنا کاروبار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی اور ان کی تربیت ہی ایسے ماحول میں ہوئی جو بعد میں ان کے کام کے لیے معاون ثابت ہوا۔

2۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کا کردار
چند بزنس ویمن کے مطابق اُنھیں آزادانہ طور پر کاروبار شروع کرنے کے سلسلے میں جوائنٹ فیملی سسٹم نے بہت سپورٹ کیا جبکہکچھکے نزدیک مشترکہ خاندانی نظام نے اُن کے کاروبار کے راستے میں کافی مشکلات کھڑی کر دیں۔ ایسی مخالفت کے پیچھے نقطہ یہ کارفرما تھا کہ ہماری لڑکیاں گھر سے نکل کر کام کریں گی تو خاندان والے ہمیں طعنے دیں گے اور ہمیں پوچھیں گے کہ کیا ہم اپنی لڑکیوں کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے جو اُنھیں خود کمانے کی ضرورت پیش آئی۔
گویا کہ کاروبار کرنے اور اُس سے نفع کمانے کو محض پیسے اور مادی ضروریات کے پیش نظر ہی دیکھا جاتا تھا اور کوئی یہ نہیں سوچتا تھا کہ خواتین کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور استعمال میں لانا ضروری ہے جبکہ دقیانوسی سوچ کی بناءپر اپنی پڑھی لکھی اور ہنرمند خواتین کے ٹیلنٹ کو سلب کرنا دراصل اُن کے ساتھ زیادتی ہے۔

3۔ بزنس خواتین کے لےے مذہبی رُجحانات / تعلیمات
ہماری بزنس ویمن نے مذہبی اور اسلامی رُجحانات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی احکامات ہمیشہ خواتین کی فلاح اور ترقی کے حق میں مثبت ثابت ہوئے ہیں۔ ایک خاتون نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں حضرت خدیجہؓ کی مثال اُن کے لےے مشعل راہ ہے کیونکہ وہ چودہ سو برس قبل ایک کامیاب بزنس خاتون تھیں اور اپنے تجارت کے کاروبار کو اتنی اچھی طرح سنبھالتی تھیں کہ پورے عرب میں اُن کو ایک دولت مند خاتون کی پہچان حاصل تھی۔
لہٰذا پاکستانی بزنس ویمن کو اسلامی نقطہ¿ نظر سے کاروبار کرنے اور اُسے پھیلانے کی مکمل آزادی واختیار ہے اور یہ ایک ایسا اہم پہلو ہے جس کے پیش نظر ہم اپنے معاشرے میں پھیلی چند فرسودہ روایات کا مقابلہ بااحسن طرز پر کر سکتے ہیں۔ لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ عورت کے کام کرنے مین بھی سب سے بڑی یہی رکاوٹ ہے اور مذہب کے نام پر خواتین پر بے جا پابندیاں بھی عائد کی جاتی ہیں۔

4۔ مرد کی اجارہ داری کا معاشرہ (Male Dominated Society)
ہماری وہ خواتین جو بظاہر کامیاب اور جرا¿ت مند بزنس خواتین کہلاتی ہیں، اُنھوں نے بھی ان خیالات کا اظہار کیا ہے کہ دراصل ہمارے معاشرے میں ابھی تک مردوں کی اجارہ داری ہے اور یہ اُن کے سوچ وفکر میں شامل ہے کہ خواتین کی کارکردگی کسی بھی طرح مردوں کے برابر نہیں ہو سکتی۔
ایک خاتون نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی بوتیک کے لےے کپڑا خریدنے خود جاتی تھیں اور اپنے طور پر اچھے ریٹ پر خریداری کر لیتی تھیں لیکن ایک مرتبہ اُنھوں نے مصروفیت کے باعث اپنے بھائی کو کپڑے کے تھان خریدنے بھیجا اور حیران کن بات یہ تھی کہ مارکیٹ میں اُن کے بھائی کو کپڑا کئی گنا سستے دام پر مل گیا یعنی مارکیٹ میں اُس کو ریٹ بتلائے ہی کم گئے جبکہ اُس خاتون کو بحث اور بھاﺅ تاﺅ کے بعد بھی یہ ریٹس نہیں دےے جاتے تھے۔
یہ واقعہ بتانے سے خاتون کا مقصد یہ بتلانا تھا کہ ہمارے ہاں خواتین کو بزنس میں کسی قسم کا تعاون حاصل نہیں بلکہ زیادہ تر اُن کی حوصلہ شکنی ہی کی جاتی ہے۔
اسی طرح ایک اور خاتون نے بتایا کہ اُن کے ایک جان پہچان والے عزیز، جوکہ پراپرٹی ڈیلر تھا، نے اُن سے ایڈوانس کرایہ لیا اور پھر دُکان کا قبضہ بھی نہ دیا بلکہ اُلٹا چیلنج دے دیا کہ وہ ثابت کرے کہ اُس نے ایڈوانس کوئی رقم دی تھی۔ ان واقعات سے دراصل یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں ابھی خواتین کو کمزور سمجھا جاتا ہے اور مردوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح خواتین کی حوصلہ شکنی کریں اور اُنھیں بزنس کھڑا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

5۔ خاوند کا درجہ
پاکستان میں خواتین کی صلاحیتوں کو گھر کی چار دیواری میں مقید کر دیا جانا ہے باوجود یکہ وہ بیک وقت بہت سے کام کرتی ہیں اور ثابت کر دیتی ہیں کہ وہ نہ صرف گھر اور خاوند کی ذمہ داریاں یا احسن طور پر نبھا سکتی ہیں بلکہ جاب یا بزنس میں بھی اپنا لوہا منوا سکتی ہیں۔
عورتوں کی یہ صلاحیتیں نہ تو تسلیم کی جاتیں ہیں اور نہ ہی انھیں سراہا جاتا ہے۔ بلکہ المیہ تو یہ ہے کہ خواتین کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اُن کے خاوند کا درجہ بہت بلند ہے اور وہ مجازی خدا ہے۔
دوسری طرف ایسی خواتین بھی ہیں جنھوں نے اس بات کی پُرزور تائید کی کہ شوہر کی مدد کے ساتھ اور اُس کی شمولیت سے بزنس زیادہ بہتر انداز پر چلایا جا سکتا ہے۔ اگر شوہر کی طرف سے بیویوں کو مدد ملے اور وہ پوری طرح سے اپنی بیویوں کے بزنس کو سمجھیں، اُن کے مسائل حل کرنے میں مدد دیں تو وہ نہ صرف فیملی کے لےے بلکہ معاشرے اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہےں۔
ایک خاتون نے بتایا کہ اُن کے شوہر نے ہمیشہ اُن کو ہر معاملے میں مدد دی ہے جس کی بدولت اُنھیں اپنے کاروبار میںکسی پریشانی سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی شوہر کے ساتھ بہترین ذہنی ہم آہنگی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کو بزنس کے امور میں مشورے اور آراءبھی دیتے ہیں جس سے دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

6۔ سسرال کی ذمہ داریاں اور توقعات
گو کہ ہر معاشرے میں شادی شدہ خواتین پر گھر، خاوند، بچوں اور سسرال کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں تاہم پاکستانی سوسائٹی میں یہ ذمہ داریاں حد سے زیادہ ہیں۔
ہمارے ہاں بہو نہ صرف اپنے خاوند اور بچوں کے مکمل کام کرے اور گھر بار سنبھالے بلکہ وہ ساس سسر اور دیگر فیملی ممبرز کی خدمت بھی کرے۔
ایسے میں اگر کوئی خاتون اپنا بزنس شروع کرتی ہے تو اُسے شدید ترین محنت کرنا پڑتی ہے۔ ہمارے سروے میں شامل ایک خاتون نے بتایا کہ وہ روزانہ صبح سویرے جاگتی ہے بچوں کو سکول کی تیاری میں مدد دیتی ہے۔ گھر کے کاموں کی فہرست ملازمہ کو دیتی ہے، پھر شوہر کو آفس بھیجتی ہے اور ساتھ ساتھ خود بھی آفس جانے کی تیاری کرتی ہے۔
پورا دن آفس میں کام کے بعد جب وہ شام کو گھر واپس آتی ہے تو سسرال والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ بہو شام کی چائے تیار کرے اور اُن کے ساتھ کچھ وقت گپ شپ کرے۔ بچوں کو بھی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ شوہر بھی آفس سے آنے کے بعد چاہتا ہے کہ بیوی اُس کے ساتھ وقت گزارے وغیرہ وغیرہ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کام کرنے والی خواتین سے یہ تمام باتیں عملی طور پر ممکن نہیں ہو پاتیں۔ ایک پہلو کو توجہ دیتے ہوئے دوسرا پہلو نظرانداز ہو جاتا ہے اور بزنس ویمن کی زندگی میں آہستہ آہستہ وقت کی کمی اور پرسنل اور پروفیشنل لائف میں توازن نہ ہونے کی شکایت شروع ہو جاتی ہے۔

Image result for business women pakistan

جواب دیجئے

x

Check Also

خواتین ہر معاملے میں احساس کمتری کا شکار نظر آئیں گی

منصور مہدی معروف ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا کہتی ہیں کہ معاشرے میں جدھر میں ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!