..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

پاکستان کی شاہین صفت بیٹیاں

منصور مہدی
پاکستانی خواتین کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں ہیں، کوئی ایسا شعبہ نہیں کہ جہاں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام نہ کر رہی ہوں، ڈاکٹر، انجینئر، استاد تو اب پرانی بات ہو چکی، اب خواتین فوج اور فضائیہ میں بھی مردوں کیساتھ ایسے ایسے امور سر انجام دے رہی ہیں کہ جن پر جتنا فخر کیا جائے ، وہ کم ہے، اِ س وقت316 خواتین پاک فضائیہ کا حصہ ہیں،جبکہ 5 سال قبل یہ تعداد صرف 100 تھی، اسی طرح 4000 سے زائد خواتین بری فوج کے دیگر شعبوں میں فرائض انجام دے رہی ہیں،حالانکہ پاکستانی خواتین پر میدان جنگ میں لڑنے کیلئے اب بھی پابندی عائد ہے،مگرحا لیہ برسوں میں پاکستان کی دفاعی فورسز میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداداِس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کے رویوں میں تبدیلی آرہی ہے اور وہ دفاع وطن کیلئے مردوں کے شانہ بشانہ اپنی قومی وملی خدمات ادا کرنے کیلئے آگے آکر ایک نئی روایت کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ
پاکستان کی پہلی کمرشل پائلٹ شکریہ خانم 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ شکریہ خانم کراچی میں رہتی تھیں، چند ہفتے قبل جب انھیں چوٹ لگنے پر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تو وہاں معلوم ہوا کہ انھیں جگر کا کینسر لاحق ہے، چنانچہ انھیں علاج کیلئے کراچی سے لاہور لایا گیا مگر ہفتہ کے روز وہ انتقال کر گئی۔
شکریہ خانم نے 1959 میں سی پی ایل یعنی کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کیا جو اس سے قبل کسی پاکستانی خاتون نے حاصل نہیں کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پی آئی اے میں خواتین کو کمرشل پروازیں اڑانے کی اجازت نہیں تھی،چنانچہ انھیں گراو¿نڈ انسٹرکٹر کے طور پر ملازمت دے دی گئی، جہاں وہ زیرِ تربیت کیڈٹس کو پڑھانے کا فریضہ سرانجام دیتی تھیں۔
شکریہ خانم معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کی خالہ تھیں، انھوں چند روز قبل اپنے پروگرام میں ان کی صحت کیلئے عوام سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے بتایا تھا کہ شکریہ خانم ان کی خالہ ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شکریہ خالہ بہت باہمت اور نڈر خاتون تھیں اور ایک ایسے دور سے تعلق رکھتی تھیں جو آج کی نسبت بہت روشن خیالی کا دور تھا۔ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ شکریہ خانم کو جنرل ضیا کے دور میں گراو¿نڈ کر کے جہاز اڑانے سے منع کردیا گیا تھا، کیونکہ شکریہ خانم کے بقول جنرل ضیا کو اس بات پر اعتراض تھا کہ ایک خاتون ہو کر ایک مرد کے ساتھ اکیلے کاک پِٹ میں رہیں گی؟
شکریہ خانم نے ساری عمر اپنے عمل سے اور کوشش سے یہ ثابت کیا کہ لڑکیاں کسی سے کم نہیں اور وہ ہر میدان میں آگے جا سکتی ہیں۔ مگر پی آئی اے اور اس وقت کے اداروں، سماج اور حکومت نے ان کی قدر نہیں کی اور انہیں وہ مقام نہیں دیا جو ان کا خواب تھا اور ان کا حق تھا۔ شکریہ خانم کو جب گراﺅنڈ کیا گیا تو امارات ایئرلائن نے شکریہ خانم کو دبئی آکر امارات میں شمولیت کی دعوت دی تھی مگر انھوں نے اسے قبول نہیں کیا اور ساری عمر پاکستان میںگزارنے کو ترجیح دی۔
Image result for shukriya khanum
پاکستان کی پہلی خاتونفلائٹ کپتان
1989 میں جب پی آئی اے نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی اور دو خواتین کو بھرتی کیا ، جو عائشہ رابعہ اور ملیحہ سمیع تھیں۔ کیپٹن عائشہ رابعہ نوید بعد میں پاکستان میں پہلی فلائٹ کپتان بنیں۔ کیپٹن عائشہ رابعہ نے پی آئی میں کیڈٹ بننے کے لیے 1980 میں امتحان پاس کیا تھا، مگر جنرل ضیا کی آمریت اور پالیسیوں کی بدولت انہیں نو سال باقاعدہ تربیت کے لیے پی آئی اے میں شامل ہونے کے لیے انتظار کرنا پڑا تھا۔
Image result for ayesha rabia naveed pilot
پاکستان کی پہلی خاتون شہیدفائٹر پائلٹ
پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ مریم مختیار 18 مئی 1992کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کرنل (ر) مختیار احمد شیخ پاک فوج میں شامل تھے۔ گھریلو عسکری ماحول کی وجہ سے بچپن ہی سے مریم کے من میں یہ تمنا بس گئی کہ وہ فوج میں جاکر دفاع وطن کا عظیم الشان فریضہ انجام دیں۔ طویل جدوجہد کے بعد ان کی محنت رنگ لائی اور 2014 میں وہ پاک فضائیہ سے بطور فائٹر پائلٹ منسلک ہوگئیں۔ مریم مختار اور دیگر خواتین فائٹر پائلٹوں نے ثابت کردیا کہ وطن کے دفاع میں وہ مردوں کے شانہ بشانہ کمربستہ ہیں۔
مریم ایک ہمدرد، محنتی اور پر خلوص انسان تھیں۔ کسی کو تکلیف میں دیکھتیں، تو اس کی مدد کرنے کو بے چین ہوجاتیں۔ وہ عمدہ پائلٹ ہونے کے علاوہ فٹ بال کی اچھی کھلاڑی بھی تھیں۔
24 نومبر 2015 کی صبح مریم اپنے انسٹرکٹر، ثاقب عباسی کے ساتھ معمول کی مشق پر روانہ ہوئیں۔ جب وہ ضلع گجرات کی فضاو¿ں میں پرواز کررہے تھے، تو اچانک انجن میں آگ لگ گئی اور وہ دھڑا دھڑ جلنے لگا۔ اس سنگین صورت حال میں ضروری ہوتا ہے کہ پائلٹ جہاز سے فوراً باہر چھلانگ لگادے۔ تبھی اس کی جان بچ سکتی ہے۔ مگر مریم شہید اور ثاقب عباسی کے ضمیر نے فوراً چھلانگ لگانا گوارا نہ کیا۔
دراصل اس وقت ان کا طیارہ آبادی کے اوپر اڑ رہا تھا۔ اس کے پرے کھیت واقع تھے۔ دونوں بہادر پائلٹوں نے فیصلہ کیا کہ چھلانگ لگانے کا فیصلہ چند لمحوں کے لیے ملتوی کردیا جائے تاکہ طیارہ آبادی کے بجائے کھیتوں کے اوپر پہنچ جائے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کو ہر قسم کے جانی و مالی نقصان سے بچانا چاہتے تھے۔ مگر یہی چند قیمتی لمحے مریم کی شہادت کا سبب بن گئے۔
زبردست شجاعت اور احساس ذمے داری دکھانے پر شہید مریم کو بعداز مرگ تمغہ شجاعت سے نوازا گیا۔ مریم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ دوران ڈیوٹی شہید ہونے والی پاک فضائیہ کی پہلی فائٹر پائلٹ ہیں۔
Related image
پہلی خاتون فائٹر پائلٹ
پہلی خاتون فائٹر پائلٹ کا اعزاز30مارچ 2006 کو افواج پاکستان کی تاریخ میں چار خواتین کو ملا،فلائنگ بیجز حاصل کرنے والی اِن خواتین میں صبا خان،نادیہ گل،مریم خلیل اور سائرہ بتول شامل تھیں، جنھوں نے ایک سو سولہواں جنرل ڈیوٹی پائلٹ کورس مکمل کرکے فضائی فورس میں شمولیت اختیار کی تھی،سب سے اہم بات یہ تھی کہ اِن چار فائٹر خواتین پائلٹ میں سے دو کا تعلق پاکستان کے سب سے زیادہ پسماندہ صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تھا،جبکہ ایک کا تعلق مذہبی اعتبار سے سخت گیر خیالات رکھنے والے صوبہ سرحد اور ایک کا صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور سے تھا، رسالپور اکیڈمی میں پاسنگ آو¿ٹ پریڈ کے موقع پر اِن چاروں خواتین کی کامیابی پر ا±س وقت کے نائب آرمی چیف جنرل احسن سلیم حیات نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہوئے کہا تھا کہ کامیاب پائلٹ خواتین نے مردوں کی طرح مشکل ترین تربیتی مراحل میں خود کو ثابت قدم رکھا۔
Related image
پاک فضائیہ کی پہلی خاتون جنگجو فائٹر پائلٹ
13جون 2013کو عائشہ فاروق نے پاک فضائیہ کی پہلی خاتون جنگجو فائٹر پائلٹ ہونے کا اعزاز حاصل کیا،یہ اعزاز انہوں نے فائٹر پائلٹ کا آخری امتحان پاس کرکے حاصل کیا،وہ اِس وقت پاک فضائیہ میں موجود پانچ خواتین لڑاکا پائلٹس میں واحد خاتون پائلٹ ہیں جو چینی ساختہ F-7PGلڑاکا جیٹ اڑانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور پاک فضائیہ میں موجود دیگر مرد فائٹر پائلٹ کے شانہ بشانہ ملک کی فضائی سرحدوں کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دینے کیلئے ہر گھڑی تیار رہتی ہیں۔عائشہ فاروق گزشتہ دہائیوں کے دوران پاکستان ایرفورس (PAF) کی 19ویں خاتون پائلٹ ہیں۔
Image result for ayesha farooq
ایئربس کی پہلی پاکستانی خاتون پائلٹ
قومی ایئرلائن پی آئی اے نے ایئر بس 320 کے لیے ہما لیاقت کوحال ہی میں فلائٹ آفیسر مقرر کیا ہے جس کے بعد ہما لیاقت ایئربس کی پہلی پاکستانی خاتون پائلٹ بن گئی ہیں، جب کہ ہما لیاقت ذہانت کے ساتھ ساتھ خوبصورت بھی ہیں جن کی کاک پٹ میں تصاویر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان پر کاک پٹ سے تصویریں لینے پر تنقید بھی ہو رہی ہے ساتھ سوشل میڈیا پر دلچپ تبصرے بھی ہو رہے ہیں ایک بندے کا کمنٹس تھا کہ سیلفیاں لیتے ہوے کہیں جہاز کو نہ ٹھوک دینا، جس پر پی آئی اے کے ترجمان نے اپنا موقف دیتے ہوے کہا تصویریں لیتے وقت جہاز محفوظ جگہ پر پارک تھا۔

Image result for huma liaqat

جواب دیجئے

x

Check Also

خواتین ہر معاملے میں احساس کمتری کا شکار نظر آئیں گی

منصور مہدی معروف ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا کہتی ہیں کہ معاشرے میں جدھر میں ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!