..................................................... ......................
Welcome to MANSOOR MEHDI   Click to listen highlighted text! Welcome to MANSOOR MEHDI

بلقیس ایدھی انسانیت کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہیں

منصور مہدی ۔۔۔۔
بلقیس بانو ایدھی عبد الستار ایدھی کی بیوی، ایک نرس اور پاکستان میں سب سے زیادہ فعال مخیر حضرات میں سے ایک ہیں۔ ان کی عرفیت مادر پاکستان ہے۔ وہ 1947 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ بلقیس ایدھی فاو¿نڈیشن کی سربراہ ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ انہوں نے خدمات عامہ کے لئے 1986 رومن میگسیسی اعزار (Ramon Magsaysay Award) حاصل کیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز سے نوازا ہے۔ بھارتی لڑکی گیتا کی دیکھ بھال کرنے پر بھارت نے انہیں مدر ٹریسا ایوارڈ 2015 سے نوازا ہے۔
پاکستان کی معروف کالم نگار زاہدہ حناء اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتی ہیں کہ 1965ء میں عبدالستار ایدھی نے بلقیس سے شادی کی، جنہوں نے نرسنگ کی ٹریننگ لی تھی، بلقیس کی سہلیاں ایدھی کو اچھی طرح جانتی تھی کیونکہ وہ بھی نرس تھیں اور انہیں اندازہ تھا کہ یہ نوجوان کس قدر سنکی ہے۔ وہ بلقیس سے کہتیں کہ تم غلطی کر رہی ہو لیکن بلقیس نے اپنی سہلیوں کی ایک نہ سنی، اس شادی نے بلقیس کو جس امتحان میں ڈالا اسکا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ایک ایسا شوہر جس نے زندگی دو سوتی جوڑوں اور پیوند لگی ربڑ کی چپل میں گزار دی ، جس نے نئی نویلی دلہن کے بھی چاو¿ چونچلے نہ کیے، وہ کس قدر مشکل رہا ہوگا۔ اس کے باوجود بلقیس نے ایک پل کے لیے بھی اپنے سخت گیر اور کفایت شعار شوہر سے جھگڑا نہیں کیا، اسی پر خوش رہیں کہ وہ دو بیٹیوں اور دو بیٹوں کی ماں ہیں اور انہیں اس ایدھی کا اعتماد حاصل ہے جسے پاکستان میں صدرِ مملکت اور وزیر اعظم پاکستان سے زیادہ عزت و احترام حاصل ہے۔
اسکی فاو¿نڈیشن کے پاس کسی وقت روپوں کی کمی ہوجائے تو وہ کراچی ، لاہور یا کسی دوسرے شہر میں کسی بھی چلتی ہوئی سڑک پر جھولی پھیلا کر کھڑا ہوجاتا ہے اور اسکے دامن کو فقیر اور امیر سکوں اور نوٹوں کی گڈیوں سے بھر دیتے تھے، انہیں یقین ہوتا ہے کہ انکی رقم صرف ناداروں اور غربت کے ماروں کی ضرورت پر خرچ ہوگی۔
1962/63 کی بات ہے کہ جب ایدھی فاونڈیشن میں ایک دوا خانہ ہوتا تھاجو انھوں نے1947میں قائم کیا تھا اور وہاں چند ہندو اور کریسچن نرسیں کام کرتی تھیں۔ مسلمان خاندان اپنی عورتوں کےلیے نرس کا کام مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ جیسے وقت گزرا نرسوں کی تعداد کم ہوتی گئیں۔ مولانا( ایدھی کو اس زمانے میں لوگ پیار سے مولانا بھی کہتے تھے) نے ان نرسوں کی جگہ بھرنے کے لئے نئی نرسیں تلاش کرکے رکھیں۔ ا±ن نئی نرسوں میں سے ایک بلقیس ایدھی تھی۔

Image result for bilquis edhi
بلقیس آٹھوں جماعت کی طالب علم تھی اوراس کو پڑھائی کا کوئی خاص زیادہ شوق نہیں تھا، چنانچہ انھوں نے محض 16 سال کی عمر میں ایدھی صاحب کے قائم کردہ نرسنگ ٹریننگ اسکول میں داخلہ لیا اور نرسنگ کی باقاعدہ پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔ ان کی محنت، لگن اور جوش وجذبے کو دیکھتے ہوئے ایدھی صاحب نے نرسنگ کے اس ادارے کی ذمہ داریاں انہیں سونپ دیں۔
انہوں نے اس ادارے میں دو برس تک جانفشانی اور انتہائی لگن کے ساتھ کام کیا اور یہی محنت اور جذبہ عبدالستار ایدھی کے دل میں بھی گھر کر گیا۔ یوں 1965 میں بلقیس بانو، عبدالستار ایدھی کی رفیق حیات بن گئیں۔
شادی کے بعد بلقیس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا اور زچہ خانہ اورمتنبی بنانے کا شعبہ بھی اس کو سنبھال پڑا۔ کیونکہ پناہ گاہوں میں بے گھر عورتیں موجود تھیں۔ بلقیس نے ان عورتوں کو نرسنگ کی تعلیم و تربیت دینی شروع کی۔ فاونڈیشن ان عورتوں کوتربیت کے دوران ایک ہزار سے پندرہ سو تنخواہ دیتی تھی۔ بارہ ماہ کی تربیت کے بعد بلقیس ان عورتوں کو ملازمت حاصل کرنے میں مدد دیتی تھی۔ جہاں وہ کم از کم تین ہزار روپے کمانے لگتی تھیں۔

Image result for bilquis edhi
شادی کے بعد ان دونوں سماجی شخصیات نے بہت سے نئے فلاحی کاموں کا آغاز کیا۔ بے گھر ہونے والی خواتین کو ادارے میں جگہ دینا ہو یا ایدھی میٹرنٹی ہوم میں زچہ وبچہ کی دیکھ بھال کرنا ہو، اس طرح کے خواتین سے متعلق تمام فلاحی کاموں کی نگرانی بلقیس ایدھی کرنے لگیں۔
ایدھی فاو¿نڈیشن کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں سے متعلق فلاحی کاموں کے لیے بلقیس ایدھی نے بلقیس ایدھی فاو¿نڈیشن کی بھی بنیاد رکھی۔ یہ فاو¿نڈیشن لاوارث بچوں کی دیکھ بھال سے لے کر لاوارث اور بے گھر لڑکیوں کی شادیاں کروانے کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس فاو¿نڈیشن کا کام بلقیس ایدھی اپنی دو بیٹیوں اور الگ عملے کے ساتھ دیکھتی ہیں۔
بلقیس ایدھی کے نمایاں ترین فلاحی کاموں میں سے ایک ’ناجائز‘ بچوں کی زندگی بچانے کے لیے شروع کیا جانے والا جھولا پراجیکٹ ہے۔ پاکستان بھر میں قائم ایدھی فاو¿نڈیشن کے ہر مرکز کے باہر ایک جھولا رکھا ہے جس پر لکھا ہے ‘بچوں کو قتل نہ کریں، جھولے میں ڈال دیں‘۔ ان جھولوں میں لوگ ایسے بچوں کو خاموشی سے ڈال جاتے ہیں جو کسی بھی وجہ سے خاندان کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے۔ ان بچوں کو ایدھی سینٹر میں پالا پوسا جاتا ہے۔ آج پورے پاکستان کے تین سو سینٹروں میں ایسے جھولے لگے ہوئے ہیں۔ جہاں لوگ بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں اور ان سے کوئی سوال نہیں کرتا۔

Image result for bilquis edhi
وہ بچے جن کوماں باپ اورگھر میسر نہیں تھا۔ وہ بھی ایدھی فیملی میں رہنے لگے۔ جوڑے جن کے کوئی اولاد نہیں تھی ان بچوں کو گود لینے لگے۔ بلقیس اورستار ایدھی بذات خود ان جوڑوں سے ملاقات کرتے ہیں اور ان جوڑوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ بلقیس کی ذاتی نگرانی میں16ہزار بچوں کوایدھی فاونڈیشن کے ذریعہ ماں باپ ملے ہیں۔ بلقیس نے نہ صرف ستّارایدھی کا ہاتھ بٹایا ہے بلکہ اپنی اہلیت کی بنا پر بہت سے ایسے ضروریات کو ظاہر کیا ہے جن کیطرف دوسروں نے توجہ نہیں دی۔ کراچی سے پشاور کے ہائی وے کے ہر40 کلومیڑ پر پیرامیڈکل اسٹاف اورایمرجنسی ایمبولینس، بلقیس کا پراجیکٹ ہے۔ انہوں نے یورپ میں اس قسم کی سہولت دیکھنے کے بعد اس کو پاکستان میں قائم کیا۔ یہ سروس بہت ہی کم قیمت پردی جاتی ہے۔ ہردوا خانہ پر بچوں کی بیماریوں کا علاج ، ویکسینیشن اور دوسری خیر وعافیت کی سروس دی جاتی ہے۔ ہرایدھی سینٹر پرایک دواخانہ اور ایک موبائل دوا خانہ ہوتا ہے۔ جہاں تقریبا روزانہ دو سو پچاس لوگ آتے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ کئی ہزار خواتین کو پناہ دینے، انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور کسی وجہ سے اپنے گھر سے ناراض ہو کر آنے والی خواتین کی ان کے خاندان کے ساتھ صلح کرا کے انہیں ان کے گھروں تک پہنچانے جیسے کام بھی بلقیس ایدھی انجام دیتی ہیں۔

Image result for bilquis edhi
بلقیس ایدھی نے پڑوسی ملک بھارت سے تعلق رکھنے والی سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم لڑکی گیتا کی 15 برس تک دیکھ بھال کی۔ گیتا 10برس کی عمر میں غلطی سے پاکستان پہنچ گئی تھی، جسے ایدھی سینٹر کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ بلقیس ایدھی کی طرف سے گیتا کا مذہبی تشخص برقرار رکھنے اور اسے ا±س کے ملک واپس بھیجنے کے لیے انتھک کوششوں کا اعتراف بھارت کی طرف سے بھی کیا گیا ہے۔ اسی اعتراف کے طور پر بھارت نے بلقیس ایدھی کو مدر ٹریسا ایوارڈ 2015 سے نوازاہے۔
دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ایدھی فاو¿نڈیشن کی موجودہ روح رواں بلقیس ایدھی ہزاروں بے سہارا اور لاوارث بچوں کو ممتا کی آغوش میں لئے ہوئے ہیں۔ بلقیس ایدھی کی زندگی پاکستانیوں کیلئے مشعل راہ ہے۔
بلقیس ایدھی کے یوں تو پانچ بچے ہیں مگر ان کی حیثیت ان ہزاروں بچوں کی ماں کی سی ہے جنہیں ان کے اپنے کسی گندگی کے ڈھیر یا ایدھی سینٹر کے پالنے میں چھوڑ جاتے ہیں۔ایدھی سینٹر کے ہر چھوٹے بڑے کی امی،بلقیس ایدھی کوہرکوئی اپنی ماں کا درجہ دیتاہے۔بلقیس ایدھی پاکستان بھر میں قائم ایدھی کے یتیم خانوں اور بے سہارا بچیوں کی ایسی ماں ہیں جو کبھی بھی اپنے فرض سے غافل نہیں ہوئی۔
یتیم بچوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنی ہو یا بے سہارا لڑکیوں کے گھر بسانے ہوں، بلقیس ایدھی انسانیت کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہیں۔
ایدھی صاحب بلقیس کے حوالے سے کہتے تھے کہ “ جب میں نے بلقیس سے شادی کی تو ہم 1+1=2 نہیں بنے بلکہ ہم1+1=11 بن گئے۔

جواب دیجئے

x

Check Also

روہی کی زرخیز کوکھ سے پھوٹنے والی نوشی گیلانی

منصور مہدی سیّد نجم سبطین حسنی لکھتے ہیں کہ اسے ہماری تنگ نظری کہا جائے ...

............................. ...........................................
%d bloggers like this:
Click to listen highlighted text!